انوارالعلوم (جلد 20) — Page 41
انوار العلوم جلد ۲۰ ۴۱ دیبا چه تفسیر القرآن کہ تمدن و تہذیب اور کلچر سے کیا مراد ہے؟ اس سوال کا جواب یہ ہے سے کیا ہے سوال کیا کیا یہی ہے کہ مختلف ممالک کی تہذیب تمدن کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا پر تہذیب اور تمدن کے کئی دور آئے ہیں اور بعض اُن میں سے اتنے شاندار گزرے ہیں کہ بادی النظر میں وہ دور ہمارے موجودہ دور کے بالکل مشابہ معلوم م ہوتے ہوتے ہیں ۔ ۔ اگر اگر مکینیکل ملا ترقی کو الگ کر دیا جائے تو پُرانا دور تمدن موجودہ دور تمدن کے بالکل مشابہہ معلوم ہوتا ہے ۔ اسی طرح پرانا دور تہذیب بھی موجودہ زمانہ کے دور تہذیب کے بہت حد تک مشابہہ نظر آتا ہے ۔ مگر زیادہ غور سے دیکھا جائے تو دو فرق ہمیں نمایاں نظر آتے ہیں لیکن پیشتر اس کے کہ میں ان امتیازوں کا ذکر کروں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ تمدن یعنی سویلیزیشن اور تہذیب یعنی کلچر سے میری کیا مراد ہے۔ میرے نزدیک تمدن ایک خالص مادی نقطۂ نگاہ ہے۔ مادی ترقی کے ساتھ ساتھ انسانی اعمال میں جو یکسانیت اور سہولت پیدا ہو جاتی ہے وہ میرے نزدیک تمدن کہلاتی ہے۔ انسانی اعمال کے نتیجہ میں جس قسم کی اور جس قدر پیداوار دنیا میں ہو اُس کو ایک دوسری جگہ پہنچانے کے لئے نقل وحرکت کے جتنے ذرائع موجود ہوں ، مال کو سہولت کے ساتھ ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ کی طرف منتقل کرنے کے لئے جتنی تدبیریں کی گئی ہوں، تعلیم جتنی رائج ہو ، صنعت و حرفت جتنی منظم کر لی گئی ہو، سائنس کی طرف قوم میں جتنا میلان پایا جاتا ہو اور ملک میں امن کے قیام کے لئے جس حد تک فوجی تنظیم کی گئی ہو ، یہ چیزیں لازمی طور پر انسان کے اعمال پر اثر ڈالتی ہیں اور ان میں جو ملک ترقی یافتہ ہواُس کے افراد کی زندگی دوسری اقوام کے افراد کی زندگی سے نمایاں طور پر الگ نظر آتی ہے اور میرے نزدیک اِسی کو تمدن یا سوی مدن یا سویلیزیشن کہتے ہیں ۔ ایک زراعتی طور پر غیر تعلیم : یافتہ ملک کے لوگوں کی غذا یقیناً زراعتی طور پر زیادہ ترقی یافتہ ملک کی نسبت مختلف ہوگی ۔ زراعتی طور پر ترقی یافتہ ملک طبی طور پر تجویز کردہ اور زبان کے ذائقہ کے مطابق خوراک استعمال کرے گا اور اس کی خوراک میں بہتات ہو گی ۔ مگر زراعت میں غیر ترقی یافتہ ملک کے لوگوں کی خوراک میں نہ طبی اصول مد نظر رکھے جاسکیں گے نہ ذائقہ کا سوال مد نظر ہوگا ۔ قدرت نے جو غذا ان کے ملک میں پیدا کر دی ہے وہ اسی کے کھانے پر مجبور ہوں گے اور اس سے آگے ان کی نگاہ جاہی نہیں