انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 40 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 40

انوار العلوم جلد ۲۰ لده کرنا جائز نہیں سمجھتے تھے۔ چنانچہ چند رسولوں کے متعلق لکھا ہے :۔ دیباچه تفسیر القرآن وے جو اس جور و جفا سے جو کہ استیفن کے سبب بر پا ہوئی تتر بتر ہو گئے تھے ۔ پھرتے پھر تے فینیکے وکپرس اور انطاکیہ میں پہنچے مگر یہودیوں کے سوا کسی کو کلام نہ سناتے تھے۔ ۲۵ اسی طرح جب حواریوں نے سنا کہ پطرس نے ایک جگہ غیر قوموں میں انجیل کی منادی کی ہے تو وہ سخت ناراض ہوئے اور جب پطرس یروشلم میں آیا تو محنتون اُس سے یہ کہہ کر بحث کرنے لگے کہ تو نا مختونوں کے پاس گیا اور اُن کے ساتھ کھایا ۔ ۴۶ ۔ پس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کوئی شخص بھی نہیں تھا جس نے ساری دنیا کو خطاب کیا ہوا اور قرآن سے پہلے کوئی کتاب نہ تھی جس نے ساری دنیا کو مخاطب کرنے کا دعویٰ کیا ہو ۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں جنہوں نے ساری دنیا کو مخاطب کر کے کہا کہ قُلْ يَايُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا یعنی اے لوگو! میں تم سب کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ پس قرآن کریم کا آنا ان اختلافات کے مٹانے کے لئے جو وقتی اور قومی تعلیموں کی وجہ سے پیدا ہو گئے تھے ضروری تھا۔ اگر قرآن نہ آتا تو دنیا پر یہ بھی ثابت نہ ہوتا کہ دنیا کا پیدا کرنے والا ایک خدا ہے اور نہ یہ ثابت ہوتا کہ دنیا ایک خاص مقصود کو مد نظر رکھ کر پیدا کی گئی ہے۔ پس گزشتہ مذاہب کا اختلاف اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ وہ دنیا کو متحد کرنے والی آخری تعلیم کے رستہ میں روک نہیں بلکہ ان کا وجود ہی ایک ایسی تعلیم کا متقاضی ہے ۔ یہ ہے دوسرا سوال اور اُس کا جواب دارای او کو لے کرتے ہوئے نہیں جارہا ارتقاء کی منزلوں تھا جس طرح انسانی جسم نے کسی زمانہ میں ارتقاء کی منزلیں طے کی تھیں؟ پھر کیا جس طرح جسم کی ارتقائی منزلیں ایک مقام پر پہنچ کر ایک مستقل صورت اختیار کر گئیں اسی طرح کیا روح اور دماغ کیلئے بھی یہ ضروری نہ تھا کہ وہ ارتقائی منزلوں کو طے کرتے ہوئے ایک ایسی منزل پر پہنچتے جو انسانی پیدائش کا مقصود تھی ؟