انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 458 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 458

انوار العلوم جلد ۲۰ لد ٧٥ دیبا چه تفسیر القرآن ماحول اس جیسا اچھا نہیں اُس کے رستہ کی روکوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جائے گا اور فیصلہ کے وقت اُنہیں بھی مد نظر رکھا جائے گا ۔ قرآن ایمان پر بھی روشنی ڈالتا ہے اور بتاتا ہے کہ ایمان کیا چیز ہے ، ایمان کی علامتیں کیا ہیں ، ایمان کے حصول کے ذرائع کیا ہیں وہ قانون شریعت اور اُس کی ضرورت کے متعلق بھی روشنی ڈالتا ہے اور بتاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا قانون بھی بغیر حکمت کے نہیں ہوتا ۔ خدا تعالیٰ اپنے بندے کو کوئی حکم اس لئے نہیں دیتا کہ وہ اسے سزا دے اور اس پر بوجھ ڈالے بلکہ وہ ہر حکم اس لئے دیتا ہے کہ وہ انسان کی ترقی کی منزل میں ممد اور معاون اور اس میں کی تمدنی حالت کو سدھارنے والا ہوتا ہے قرآن جبری حکموں کا قائل نہیں وہ اس حق کو تسلیم کرتا ہے کہ خدا بھی جس شخص کو سزا دے اس شخص کو اپنی ذات سے الزام کو دور کرنے کا پورا موقع ملنا چاہئے اور اس کے اُوپر پوری طرح حجت تمام ہونی چاہیے خواہ کوئی کتنا ہی بڑا مجرم ہو مگر اُس پر حجت تمام ہوئے بغیر قرآن اُس کی سزا کا قائل نہیں ۔ عبادت کی چار ا صولی قسمیں قرآن عبادت الہی کے متعلق بھ تفصیلی روشنی ڈالتا ہے وہ عبادت کو چار اصولی حصوں میں تقسیم کرتا ہے (1) وہ عبادت جس کی غرض خدا تعالیٰ کے ساتھ محبت اور اس کے ساتھ تعلق بڑھانا ہے۔ (۲) وہ عبادت جو انسان کے جسم کی اصلاح کے لئے قربانیاں کرنے پر آمادہ کرنے کے لئے ہوتی ہے ۔ (۳) وہ عبادت جو انسانوں کے اندر مرکزیت پیدا کرنے کے لئے اور اتحاد و یگانگت کا احساس پیدا کرنے کے لئے مقرر کی جاتی ہے۔ (۴) وہ عبادت جو بنی نوع انسان کی اقتصادی حالتوں میں یکسوئی اور یکرنگی پیدا کرنے کے لئے مقرر کی جاتی ہے۔ یہ چار اصول عبادت کے اسلام مقرر کرتا ہے اور ان چار اصول کے مطابق اس نے مختلف قسم کی عبادتیں مقرر کی ہیں ۔ اِن اُصول کو تجویز کر کے اسلام نے یہ نظریہ پیش کیا ہے کہ عبادت صرف اسی بات کا نام نہیں کہ انسان خدا تعالیٰ کی طرف دھیان دے بلکہ بنی نوع انسان کی طرف توجہ کرنے سے بھی خدا تعالیٰ کی عبادت کا فرض ادا ہوتا ہے ۔ اسی طرح اسلام نے یہ نکتہ بھی پیش کیا ہے کہ عبادات صرف انفرادی نہیں بلکہ وہ