انوارالعلوم (جلد 20) — Page 457
انوار العلوم جلد ۲۰ ۴۵۷ دیا چه تفسیر القرآن اختیار کرنے والے کے بھی اختیار میں نہیں ۔ موت خدا تعالیٰ کی طرف سے آتی ہے اگر ایک شخص نیکی کے لئے جدو جہد کرتے ہوئے مر جاتا ہے تو یقیناً وہ خدا کے فضل کا مستحق ہے سزا کا کا مستوجب نہیں ۔ کوئی قوم اپنے سپاہیوں کو اس بات پر ملامت نہیں کیا کرتی کہ وہ فتح پانے سے پہلے کیوں مارے گئے بلکہ فتح کے لئے بھی سچی کوشش کرنے والا سپاہی عزت پاتا ہے اسی طرح و شخص جو شیطان کو زیر کرنے کے لئے پورا زور لگا رہا ہے کبھی شیطان اُس پر غالب آجاتا ہے اور کبھی وہ شیطان پر غالب آجاتا ہے مگر وہ دل نہیں ہارتا ، وہ ہمت نہیں ہارتا ، وہ ہتھیا رنہیں ڈالتا ، وہ خدا تعالیٰ کی بادشاہت کے قیام کے لئے شیطان سے لڑتا چلا جاتا ہے ایسا انسان قرآن کے نزدیک یقیناً نجات کا مستحق ہے۔ اُس کی کمزوری اُس کے لئے ایک زیور ہے کیونکہ وہ با وجود کمزور ہونے کے خدا کے سپاہیوں میں شامل ہونے سے ڈرا نہیں اور اپنی قربانی پیش کرنے سے ہچکچا یا نہیں ۔ - قرآن کریم روحانی ارتقاء کی منازل بیان کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ روحانی مدارج کیا ہیں ، کتنے ہیں اور مختلف اخلاق کو مد نظر رکھتے ہوئے وہ روحانی مدراج کی تفصیل بیان کرتا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ عفت کتنی اقسام کی ہے، وہ بتاتا ہے کہ سخاوت کتنی اقسام کی ہے، وہ سچائی کی اقسام بیان کرتا ہے ، وہ رحم اور حسن سلوک کے مدراج بیان کرتا ہے تا کہ ہر طاقت وقوت کا انسان اپنے لئے ایک قریب کی منزل مقرر کر سکے اور اس طرح جہاں اُس کی حوصلہ افزائی ہو وہاں چھوٹی ترقی پر خوش ہونے کی غلطی میں وہ مبتلا نہ ہو جائے ۔ وہ ہر شخص کے قریب کی منزل اُسے بتاتا ہے مگر ساتھ ہی یہ بھی بتاتا ہے کہ اس سے اوپر ایک اور منزل بھی ہے ۔ جب تم پہلی منزل طے کر لو تو تمہیں اُوپر کی منزل کی طرف اپنا قدم بڑھانا چاہئے اس طرح وہ قدم بقدم اور درجہ بدرجہ انسان کو او پر لئے چلا جاتا ہے ۔ قرآن انسان کے دماغی ارتقاء پر بھی روشنی ڈالتا ہے وہ بتاتا ہے کہ انسان کا دماغی نشو و نما کس طرح ہوتا ہے اور کس طرح خدا تعالیٰ کے نزدیک اُس کے دماغی نشو و نما کا بھی اس کے متعلق فیصلہ کرنے کے وقت لحاظ رکھا جاتا ہے وہ شخص جو ایک اچھے ماحول میں پلا ہے اور جس کے لئے نیکی کا رستہ آسان ہو گیا ہے وہ محض اپنے اعمال کی وجہ سے دوسرے پر فضیلت نہیں پائے گا، بلکہ دوسرا شخص جس کا دماغی نشو و نما اس پہلے شخص کے برابر نہیں اور جس کا