انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xi of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page xi

انوار العلوم جلد ۲۰ ۶ تعارف کتب تحریر فرمایا ہے جس میں نہایت ہی آسان پیرا یہ میں جماعت احمد یہ کا عقائد کے لحاظ سے تعارف کروایا گیا ہے ۔ اس تعلق میں سب سے پہلے آپ نے مذکورہ بالا سوال کر نیوالوں کو یہ بات سمجھائی ہے کہ احمدیت کوئی نیا مذہب نہیں ہے اور نہ ہی احمدیوں کا کوئی الگ کلمہ ہے۔ آپ نے تحریر فرمایا کہ دنیا کے تمام مذاہب میں سے صرف اسلام کو یہ فخر اور اعزاز حاصل ہے کہ اس کا ایک کلمہ ہے ۔ اور احمدیت چونکہ حقیقی دین ہونے کی دعویدار ہے اس لیے جماعت احمد یہ کا کلمہ بھی وہی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کے سامنے پیش کیا۔ اس کے بعد حضور نے جماعت احمد یہ کے متعلق عقائد کے لحاظ سے بعض شکوک کا ازالہ فرمایا جس میں ختم نبوت، ملائکہ اللہ، نجات ، احادیث، تقدیر، جہاد جیسے مسائل کے متعلق جماعت احمدیہ کا نقطہ نظر بیان فرمایا۔ اسی طرح اس کتابچہ میں ایک نئی جماعت بنانے کی وجہ اور غرض و غایت بیان فرمائی ۔ نیز جماعت احمد یہ کے پروگرام پر روشنی ڈالی اور آخر پر احمد یوں کو دوسری جماعتوں سے علیحدہ رکھنے کی وجہ بیان فرمائی ۔ پس یہ کتابچہ جماعت احمد یہ کے تعارف کے لحاظ سے انتہائی لاجواب ہے جسے ہمیں کثرت سے دوسروں کو پڑھانا چاہیے۔ (۶) ہندوستان کے احمدیوں کے نام پیغام حضرت مصلح موعود نے ۱۹۴۸ء کے جلسہ سالا نہ ہندوستان کے موقع پر ہندوستان کے احمدیوں کے نام جو پیغام ۲۰ دسمبر ۱۹۴۸ ء کو تحریر کر کے ارسال فرمایا اس پیغام کو اب انوار العلوم کی اس جلد نمبر ۲۰ میں شامل اشاعت کیا جا رہا ہے ۔ اس پیغام کے آغاز میں حضور نے اس جلسہ سالانہ کے منعقد کرنے پر جماعت احمد یہ بھارت کو ھدیہ تبریک پیش کیا ۔ اس کے بعد فرمایا کہ جماعتیں صدمات میں سے گزرے بغیر کبھی بڑی جماعتیں نہیں بن سکتیں ۔ (حضور کا اس میں دراصل پارٹیشن کی طرف اشارہ تھا) پارٹیشن کے نتیجہ میں جو جماعتی نقصان ہوا اُس کے ذکر کے بعد حضور نے ہندوستان کے احمدیوں کو اُس وقت