انوارالعلوم (جلد 1) — Page 63
انوار العلوم جلد : ۶۳ محبت الهی دلیری نہ تھی کہ یہ سچاند ہب اختیار کرتے تو خود ہی خاموش بیٹھتے اور بلا وجہ لوگوں کا دل نہ دکھاتے اور بڑے بڑے انبیاء علیہم السلام پر تہمتیں نہ لگاتے اور گالیوں سے باز رہتے مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا اور شوخی کا پہلو اختیار کیا اور حلم اور انکسار کو چھوڑ دیا غالبا انہوں نے کسی آئندہ حساب کتاب کا گمان نہیں کیا بلکہ سوچا کہ جو کچھ ہے اسی دنیا میں ہے جیسا کہ ہم ثابت کر چکے ہیں کہ ان کے عقیدوں سے پایا جاتا ہے گالیاں دینا اور بزرگوں کو بری طرح یاد کرنا تو ان کے خمیر میں ہے یہاں تک کہ ان کے بعض پر جوش ممبروں نے ایسی کتابیں لکھی ہیں کہ جن سے سوائے حق پوشی اور مسلمانوں کا دل دکھانے کے اور کوئی مطلب نہیں اور ان کتابوں میں ہمارے نبی کریم ا کو ایسے سخت الفاظ سے یاد کیا گیا ہے کہ سن کر بھی دل کباب ہو جاتا اور معا خیال آتا ہے کہ مہ نوری فشاند و سگ بانگ می زند - اور دل میں ایک جوش پیدا ہوتا ہے کہ ان لوگوں کو دندان شکن جواب دیا جائے۔ اور ان کے گندے اور ناقابل عمل عقائد کو خوب کھول کر ان کے سامنے رکھ دیا جائے اور پھر ان سے پوچھا جائے کہ کیا یہ تعلیم ایسی ہے کہ اس پر کوئی شریف آدمی عمل کر سکے ؟ مگر پھر خیال آتا ہے کہ اس تعلیم کو اچھی طرح سے کھول کر رکھ دینا بھی ایک سخت مشکل کام ہے اس لئے نہیں کہ وہ ایک مضبوط دیوار میں ہے اور اس پر حملہ کرنا دشوار ہے بلکہ اس لئے کہ وہ اس قدر گندی اور مخش ہے کہ دنیا اس کو حیا کے مارے دیکھ نہیں سکے گی اور شریف آدمی اس کو پڑھ کر غیرت سے کانپ اٹھے گا۔ کہ کیا یہ تعلیم ہے جو کہ آریہ صاحبان دنیا میں پھیلاتے ہیں اور جس کو یہ لوگ عالمگیر اصول قرار دیتے ہیں اس لئے ہم نے دو تین باتیں ان کی بیان کر دی ہیں تاکہ یہ خیال نہ کریں کہ ہمارے مذہب کے قلعہ کو کوئی توڑ نہیں سکتا اور خدا کے فضل سے ہم نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ آریوں کا خدا اس قابل نہیں کہ اس سے کوئی طالب حق محبت کر سکے نہ تو اس نے ہم کو پیدا کیا ہے اور نہ ہم کو مٹا سکتا ہے اور نہ وہ رحیم ہے اور نہ ہی وہ ہم کو نجات دے سکتا ہے پس اس میں کسی قسم کا بھی حسن نہیں جس کی وجہ سے ہم اس سے محبت کریں۔ تعلیم وہ ہے جو کہ ناقابل عملدرآمد ہے عقیدہ وہ ہے کہ انسان جس کو ایک منٹ کیلئے بھی اپنے ذہن میں نہیں رکھ سکتا اور خود اس تعلیم پر چلنے والوں اور ایسا عقیدہ رکھنے والوں کا نمونہ اس قدر برا ہے کہ رہی سہی امید بھی منقطع ہو جاتی ہے۔ اس لئے ہم اسلام پر ایک مختصر نظر ڈالتے ہیں کہ کیا یہ مذہب بھی باقی تمام مذہبوں کی طرح انسانی دست برد کے نیچے آچکا ہے یا نہیں اور کیا اس میں بھی ایسی ہی کمزوریاں ہیں جن پر کہ دشمن کے ہاتھ پڑ سکتے ہیں مگر اس سے پہلے کہ میں اسلام کی دوسری باتوں پر نظر ڈالوں اتنا