انوارالعلوم (جلد 1) — Page 645
انوار العلوم جلدا والده اسلامی نماز ہو اور جس قدر اللہ تعالی کے نیک بندے ہیں سب پر سلامتی نازل ہو میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے خادم مخلوق ہیں، میں (خدا نہیں ہیں نہ اس کے بیٹے) اور اس کے ایک رسول ہیں۔ اس حصہ کو حصہ کو تشہد کہتے اور محلو ہیں۔ اس کے بعد وہ اسی طرح بیٹھا ہوا یہ پڑھتا ہے ؟ اہوا یہ پڑھتا ہے اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى آلِ درود شریف مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَا إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدَه اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ - ترجمہ - اے اللہ محمد ﷺ پر اور اس کے بچے متبعین پر تو اسی طرح رحمتیں نازل کر جس طرح ابراہیم اور اس کے متبعین پر رحمتیں نازل کیں۔ تو بڑی تعریف اور بزرگی والا ہے۔ اے اللہ تو محمد ال اور اس کے بچے متبعین کو درجوں میں بڑھا جس طرح تو نے ابراہیم اور اس کے بچے متبعین کو درجوں میں بڑھایا تھا۔ تو بڑی حمد والا اور بزرگی والا ۔ والا اور بزرگی والا ہے۔ اس حصہ کو درود کہتے ہیں۔ پھر اسی حالت میں بیٹھا ہوا یہ دعا ئیں یا ان میں سے کوئی دعا پڑھتا ہے (1) اللهم اني وعا من ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةٌ مِّنْ عِنْدِكَ وَارْحَمْنِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ (بخاری کتاب الدعوات باب الدعاء في الصلوه ) (ب) اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَ الْغَمِّ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ وَ الْبُخْلِ وَ اَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْعِجْزِ وَالْكَسَلِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدِّيْنِ وَقَهْرِ الرِّجَالِ ۔ (ج) ربا ۔ بِ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلُوةِ وَ مِنْ ذُرِّيَّتِي رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاءِ (ابرا (ابراهیم: ۴۱) (ر) رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَى وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ (ابراهيم : ۴۲) (0) رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (البقره: ۲۰۲) (1) اے اللہ میں نے اپنی جان پر بہت ظلم کئے ہیں۔ اور کوئی گناہ نہیں معاف کر سکتا مگر تو پس تو چونکہ ہر ایک قوم نے اپنے رسول کو اس قدر عظمت دے دی تھی کہ اسے خدایا اس کا شریک یا اس کا بیٹا بنا لیا تھا۔ اس لئے اسلام نے اللہ تعالیٰ کی توحید کے اقرار کے ساتھ اپنے مخلوق ہونے کا اقرار کرنا بھی ہر ایک متبع پر ضروری کر دیا۔ تا کہ ایسا نہ ہو کسی وقت مسلمان بھی اپنے رسول کو خدایا اس کا بیٹا سمجھ لیں بلکہ اپنی عبادت میں اقرار کرتے رہیں کہ ان کا رسول اللہ کا ایک بندہ تھا ہاں اسے صرف ایک امتیاز حاصل تھا کہ اور بہت سے رسولوں کی طرح وہ بھی ایک رسول تھا۔ منہ