انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 641 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 641

انوار العلوم جلدا ۶۴۱ اسلامی نماز خدائے تعالیٰ کی پاک اور بے عیب ذات کی معرفت پیدا کرا کے اس کے دل کو محبت الہی سے بھر نے اور بدیوں سے بچنے کی سہولتیں بہم پہنچائی گئی ہیں۔ جس کی نظیر اور کسی مذہب میں نہیں مل سکتی۔ اسلام نے جو طریق عبادت بتایا ہے وہ ایسا مکمل اور ضرورت کے مطابق ہے کہ کوئی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور اگر کوئی شخص اسلام کی اس عبادت کا ہی بنظر غائر مطالعہ کرے تو سمجھ سکتا ہے کہ اسلام کو دوسرے مذاہب پر کس قدر فضیلت ہے مجھے افسوس ہے کہ میں اس موضوع پر تفصیل سے نہیں لکھ سکتا کیونکہ میری غرض اس مختصر مضمون سے نماز کے ادا کرنے کا طریق بتانا ہے۔ نماز شروع کرنے سے پہلے مسلم کیا کرتا ہے ؟ مسلمان جب نماز ادا کرنے کے لئے طریق وضو کھڑا ہوتا ہے تو اسے ایک تیاری کرنی پڑتی ہے جسے وضو کہتے ہیں وضو اس طرح کیا۔ جاتا ہے پہلے ہاتھ دھوئے جائیں پھر تین دفعہ کلی کی جائے پھر تین دفعہ ناک میں پانی ڈالا جائے اس کے بعد تین دفعہ ہاتھ میں پانی لے کر منہ دھویا جائے اس کے بعد پہلے دایاں اور پھر بایاں ہاتھ کہنیوں تک دھویا جائے ۔ پھر ہاتھ تر کر کے تین انگلیوں کو سر پر پھیرا جائے جس کے بعد انگوٹھے کے ساتھ کی انگلی کو کان میں اور انگوٹھے کو کان کے باہر پھیرا جائے۔ پھر پہلے دایاں اور پھر بایاں پاؤں دھویا جائے اس تمام کام کو وضو کہتے ہیں اور یہ نماز سے پہلے ضروری ہوتا ہے۔ وضو کے بعد مسلم کعبہ کی طرف منہ کر کے کھڑا ہو جاتا ہے ۔ اور الله اكبر طریق نماز اللہ سب سے بڑا ہے) کہہ کر اپنے دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھا اٹھا کر اپنے میکند وضو سے ایک غرض یہ ہے کہ وہ اعضاء جو عام طور پر ننگے رہتے ہیں ان کو دھویا جائے اور ظاہری صفائی کر کے عبادت ادا کی جائے۔ جس سے اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جب عبادت میں ظاہری پاکیزگی کا اس قدر خیال رکھا گیا ہے تو باطنی طہارت کا ایک مسلم کو کس قدر خیال رکھنا چاہئے اور کس طرح اپنے دل کو گناہوں سے پاک کر کے اللہ تعالی کے حضور حاضر ہونا چاہئے۔ کعبہ کی طرف منہ کرنا اس وجہ سے نہیں ہے کہ اسے مسلمان قابل عبادت قرار دیتے ہیں بلکہ اس لئے کہ حضرت ابراہیم نے کعبہ کی تعمیر کے وقت دعا کی تھی کہ الہی اس ملک میں ایک نبی مبعوث کر جو ان کی ہدایت کرے اور ان کو پاک کرے سو چونکہ آنحضرت ا کو دعوی تھا کہ آپ وہ نبی ہیں اس لئے نماز میں اس طرف منہ کرنے کی یہ حکمت ہے کہ مسلمانوں کو وہ وعدہ یاد آتا ہے اور وہ اپنے اعمال کو درست کرتے رہیں ۔ ورنہ قرآن شریف میں اللہ تعالی فرماتا ہے لَيْسَ البَر أَنْ تُوَلَّوْا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنْ أَمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلائِكَةِ وَالْكِتَبِ وَالنَّبِيِّنَ وَأَتَى الْمَالَ عَلَى حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَى وَالْيَتْ وَالْمَسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّائِلِينَ وَفِي الرِّقَابِ وَأَقَامَ الصَّلوةَ وَ الزكوة والمُرْفُونَ بِعَهْدِهِمْ إِذَا عَاهَدُوا وَالصَّبِرِينَ فِي الْبَاسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِيْنَ الْبَاسِ أُولَئِكَ الَّذِ الَّذِينَ صَدَقُوا وَأُولَئِكَ هُمُ هُمُ الْمُتَّقُونَ (البقرہ: ۷۸) ترجمہ نیکی یہ نہیں کہ تم مشرق یا مغرب کی طرف منہ کرو (یعنی کعبہ کی طرف منہ کرنے کو نیکی سمجھو، بلکہ نیکی تو اس کام میں ہے جو اللہ پر اور قیامت پر اور ملائکہ پر اور کتاب پر اور سب نبیوں پر ایمان لاتا ہے اور باوجو د مال کی محبت کے رشتہ داروں ٹیموں مسکینوں مسافروں سوالیوں اور قیدیوں کی دستگیری کرتا ہے اور خدا تعالی کے لئے بدنی عبادتیں بجالاتا ہے اور اس کے راستہ میں مال دیتا ہے اور ان کے کاموں میں جو لوگ جب عہد کرتے ہیں تو انہیں پورا کرتے ہیں اور جو لوگ مالی تنگیوں بیماریوں اور جنگوں میں صبر سے کام لیتے ہیں یہی لوگ ہیں جو اپنے دعوی میں بچے ہیں اور یہی لوگ خداتعالی سے ڈرنے والے ہیں۔ منہ أَتَى