انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 640 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 640

انوار العلوم جلد ؟ والده اسلامی نماز اور وہ زبان حال سے اقرار کرتا ہے کہ دنیا کی مختلف اقوام جس جس طریق میں بھی اپنی عبادت کا اظہار کرتی ہیں اے خدا میں تیرے سامنے مجموعی طور پر ان سب طریقوں سے اپنی عبودیت کا اقرار کرتا ہوں۔ یہ نظارہ نماز ادا کرنے والے کو ہی نہیں بلکہ اس کے دیکھنے والے کے دل کو بھی متاثر کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف جھکا دیتا ہے۔ دوسرا اصل اسلام نے نماز کی غایت کو حاصل کرنے کا یہ تجویز کیا نماز دعاؤں کا مجموعہ ہے ہے کہ دعا کو نماز کا منز قرار دیا ہے چنان د نماز کا مغز قرار دیا ہے چنانچہ حدیث میں ہے :- الدُّعَاءُ مُخُ الْعِبَادَةِ (ابواب الدعوات باب ما جاء في فضل الدعاء) دعا نماز کا مغز ہے اور دعا اپنے اندر ایک ایسا مقناطیسی اثر رکھتی ہے کہ ایک طرف تو بندے کو اللہ تعالیٰ کے قریب کر دیتی ہے اور دوسری طرف اس کے لئے ایسی آسانیاں بہم پہنچا دیتی ہے کہ جن سے وہ گناہوں سے محفوظ رہ سکے ۔ جب ہماری استدعاؤں اور التجاؤں کو والدین اور حکام دنیا قبول کرتے ہیں تو کیونکر خیال کیا جائے کہ خدائے تعالیٰ جو سب مہربانوں سے زیادہ مہربان ہے اپنے بندوں کی دعاؤں کو رد کر دے گا۔ پس نماز کیا ہے دعاؤں کا ایک مجموعہ ہے جس سے ایک طرف تو اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا ہوتی ہے اور دوسری طرف دعا ئیں قبولیت حاصل کر کے انسان کی ہدایت اور ترقی کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔ تیسرا طریق اسلام نے یہ بتایا ہے کہ خدائے تعالیٰ کی طاقتوں کا معائنہ کیا جائے ۔ کیونکہ ہو سکتا۔ تعلق باللہ جب تک کسی چیز کا کامل علم انسان کو نہ ہو اس سے اس کا تعلق مکمل نہیں ہو مثلاً جس انسان کو علم کی خوبی معلوم نہیں وہ اس کے حصول کی کوشش نہیں کر سکتا اسی طرح جو شخص زہر کے اثر سے ناواقف ہے وہ زہر سے نہیں ڈر سکتا پس اللہ تعالیٰ سے تعلق رکھنے اور بدیوں سے بچنے کے لئے اس بات کی نہایت ضرورت ہے کہ خدا تعالیٰ کی کامل معرفت ہو جس کے لئے اسلام نے نماز میں ایسی عبارتوں کا پڑھنا ضروری رکھا ہے۔ جن سے انسان پر اللہ تعالیٰ کا پر جلال اور قابل محبت ہونا ظاہر ہوتا ہے اور وہ بے اختیار اس کے حضور گر جاتا ہے اور اس کا دل محبت اور خوف سے بھر جاتا ہے۔ کیونکہ جب اس کے سامنے ایک ہی وقت میں اللہ تعالیٰ کے احسانات پیش کئے جاتے ہیں اور نافرمانی اور قطع تعلق کے نتائج سے آگاہی دی جاتی ہے تو اس پر ایک ایسی انقطاعی حالت طاری ہوتی ہے کہ بے اختیار اللہ تعالیٰ کے قریب ہو جاتا ہے۔ چنانچہ ناظرین نماز کے ترجمہ سے معلوم کر سکیں گے کہ اس بات کو کسی حد تک ملحوظ رکھا گیا ہے اور کس طرح نماز میں انسان کو