انوارالعلوم (جلد 1) — Page 633
انوار العلوم جلدا ۶۳۳ سيرة النبي میں اس قدر کہہ دیتے کہ تیرے ماتھے کو مٹی لگے اور یہ فقرہ گالی کا فقرہ نہیں بلکہ یہ الفاظ عرب لوگ پیار سے بھی کہا کرتے ہیں اور گو عام طور پر ان کا استعمال معمل جملوں کے طور پر ہوتا ہے لیکن کبھی یہ الفاظ محبت کے اظہار کے لئے بھی استعمال کئے جاتے اور ان سے یہ مفہوم لیا جاتا ہے کہ اس کی یہ شوخی دور ہو کیونکہ ماتھا تکبر کی علامت ہے اور اس کو مٹی لگنے سے سے یہ مراد ہے کہ اس کا یہ تکبر دور ہو۔ نوٹ : اخبار الفضل میں یہ سلسلہ مضامین یہاں تک ہی شائع ہوا تھا لیکن سیرت کے مضمون پر حضور کی متعدد کتب شائع ہو چکی ہیں۔ (مرتب) أنا بخارى كتاب المغازى باب غزوة احد میں لنا عزی “ کی بجائے لنا العزی" اور " لنا مولیٰ“ کی بجائے ”اللہ مولانا“ کے الفاظ ہیں۔