انوارالعلوم (جلد 1) — Page 632
انوار العلوم جلدا ۶۳۲ سيرة النبي سال متواتر بلا لیکن باوجود اس کے کہ آپ کے مخالفوں نے ہر طرح سے آپ کو دق کیا اور تئیس سال وجه آر آپ کو دکھ دیتے رہے اور ان کے ہاتھ روکنے والا بھی کوئی نہ تھا اور حضرت مسیح کے زمانہ کی طرح کوئی حکومت نہ تھی جس کے قانون سے ڈر کر اہل مکہ رسول کریم ﷺ کو ستانے میں کوئی کمی کرتے اور وہ قوم بھی حضرت مسیح کی قوم سے زیادہ سخت تھی لیکن باوجود اس کے ہم دیکھتے ہیں کہ آنحضرت ا کے منہ پر کبھی گالی نہیں آئی۔ ایک دو دن کی تکلیف ہو تو تب بھی کوئی بات تھی۔ سب کہہ سکتے تھے کہ آپ نے جبر کر کے اپنے آپ کو روکے رکھا۔ ایک دو ماہ کی بات ہوتی تب بھی کہہ سکتے تھے کہ تکلیف اٹھا کر خاموش رہے ایک دو سال کا معاملہ ہو تب بھی خیال ہو سکتا تھا کہ اپنے نفس کو مار کر اپنی زبان کو بند رکھا لیکن تئیس سال کا لمبا عرصہ جو تکالیف و مصائب سے پر تھا ایک ایسا عرصہ ہے کہ اس عرصہ میں کسی انسان کا ان تکالیف کو برداشت کرتے ہوئے اور ان عداوتوں کو دیکھتے ہوئے جو آنحضرت اللہ کو دیکھنی اور برداشت کرنی پڑیں ہر قسم کی سخت کلامی سے پر ہیز کرنا اور کبھی فحش گوئی کی طرف مائل نہ ہونا دلالت کرتا ہے کہ وہ انسان کوئی عجیب انسان تھا اور نہ صرف عام انسانوں سے برتر تھا بلکہ دوسرے نبیوں پر بھی فضیلت رکھتا تھا۔ کیونکہ جہاں اس نے اپنے آپ پر قابو رکھا وہاں دوسرے نبی بھی نہ رکھ سکے ۔ مجھے اپنے اس بیان کے لئے کسی ایک واقعہ سے استدلال کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اس معاملہ میں ایک ایسے شخص کی شہادت موجود ہے جو دس سال متواتر آپ کے ساتھ رہا اور یہ حضرت انس نہیں وہ فرماتے ہیں کہ لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحِشًا وَ لا لَعَانَا ۚ وَلَا سَبَابًا كَانَ يَقُولُ عِنْدَ الْمَعْتَبَةِ: مَا لَهُ تَرِبَ جَبِينُهُ (بخاری کتاب الادب باب ما ينهى من السباب واللعن یعنی رسول کریم اللہ نہ تو گالی دینے کے عادی تھے، نہ فحش کلام کے عادی تھے ، نہ لعنت کیا کرتے ۔ رتے تھے، جب آپ کو ہم میں سے کسی پر غصہ آتا تو آپ صرف اس قدر فرما دیا کرتے تھے کہ اسے کیا ہوا ہے اس کے ماتھے پر مٹی لگے ۔ یہ گواہی ایک ایسے شخص کی گواہی ہے جو کہ آپ کے ساتھ آپ کی عمر کے آخری حصہ میں جس میں سے پہلا آپ کی تکلیف کے زمانہ میں سے سب سے سب سے سخت زمانہ تھا تھا رہا ہے اور پھر آپ کی عمر کا وہ حصہ ہے جبکہ ایام جوانی گزر کر بڑھاپا آگیا تھا اور بڑھاپے میں عام طور پر انسان کی طبیعت چڑچڑی ہو جاتی ہے لیکن باوجود اس کے وہ گواہی دیتا ہے کہ اس دس سال کے تجربہ سے اسے معلوم ہوا ہے کہ آپ نہ تو کبھی کسی کو گالی دیتے نہ کبھی آپ کے منہ سے کوئی فحش کلمہ نکلتا اور نہ کبھی کسی شخص پر لعنت کرتے ہاں حد سے حد غصہ سے پہلا حصہ آ۔