انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 626 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 626

انوار العلوم جلدا ۶۲۶ سيرة النبي ال مد نظر ہوتا اور اس فرشتہ کا آپ کو گھونٹنا اس لئے ہوتا کو گھونٹنا اس لئے ہو تاکہ آپ کو تحریر پڑھنا آجائے تو ا ایسا ہونا چاہئے تھا کہ وہ آخری دفعہ آپ کے سامنے تحریر رکھ دیتا اور آپ کو پہلے پڑھنا نہیں جانتے تھے لیکن معجزانہ طور پر پڑھنے لگ جاتے لیکن آخری دفعہ فرشتہ کامنہ سے الفاظ کہہ کر آپ کو دہرانے کے لئے کہنا صاف ثابت کرتا ہے کہ اس وقت آپ کے سامنے کوئی تحریر نہ رکھی گئی تھی بلکہ صرف زبانی آپ سے ایک عبارت دہرانے کو کہا گیا تھا اور یہ استدلال جو ہم نے کیا ہے اس کے خلاف عبید بن عمیر کی روایت نہیں پیش کی جاسکتی جس میں لکھا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ میرے سامنے جبریل نے ایک تحریر رکھی تھی جو دیباج پر لکھی ہوئی تھی۔ کیونکہ ایک تو یہ حدیث اس پائے کی نہیں جس پائے کی حدیث بخاری کی ہے پھر یہ مرسل حدیث ہے اس لئے اس روایت کے مقابلہ میں جو او پر نقل کی گئی ہے ، نہیں رکھی جا سکتی ۔ سوم - خود عبید بن عمیر کی اپنی روایت میں اس کے خلاف ہے کیونکہ وہ بیان کرتے ہیں کہ جب جبریل نے آپ سے کہا کہ پڑھیں ۔ تو آپ نے فرمایا کہ میں کیا پڑھوں؟ اور یہ فقرہ کہ میں کیا پڑھوں صاف ثابت کرتا ہے کہ آپ کے سامنے کوئی تحریر نہ تھی اگر تحریر ہوتی تو آپ کیا پڑھوں کا جملہ کیونکر استعمال فرما سکتے تھے ۔ غرض حق یہی ہے کہ آنحضرت ا سے اس فرشتہ نے کوئی تحریر پڑھنے کو نہیں کہا بلکہ کہا بلکہ یہی کہا کہ آپ کہیں (یعنی جو کچھ میں کہوں) اس کے جواب میں آپ نے فرمایا کہ میں تو قراءت نہیں جانتا لیکن اب ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ جبکہ آپ سے صرف عربی کے بعض فقرات دہرانے کو کہا گیا تھا تو آپ نے کیوں فرمایا کہ میں پڑھنا نہیں جانتا حالا نکہ یہ کام آپ آسانی سے کر سکتے تھے آپ کی مادری زبان عربی تھی اور آپ اس زبان میں کلام کیا کرتے تھے۔ پھر آپ نے یہ کیوں فرمایا کہ میں پڑھنا نہیں جانتا اور نہ آپ عربی کے کلمات کے دہرانے سے عاجز تھے کہ کہا جائے کہ آپ نے اس بات سے بھی انکار کیا بلکہ اصل بات یہی ہے کہ آپ نے فرشتہ کو دیکھتے ہی خوب سمجھ لیا تھا کہ یہ کس غرض کے لئے آیا ہے کیونکہ قبل از وقت آپ کو ر دیائے صالحہ کے ذریعہ اس کام کے لئے تیار کر دیا گیا تھا۔ اور پھر ایک علیحدہ جگہ میں یک لخت ایک شخص کا نمودار ہو نا صاف ظاہر کرتا تھا کہ یہ کوئی انسان نہیں بلکہ فرشتہ ہے پس آپ کے دل میں یہ خیال پیدا ہو گیا تھا کہ یہ کوئی فرشتہ ہے اور مجھے کوئی کام سپرد کرنے آیا ہے اور آپ نے خدا تعالیٰ کی عظمت کی طرف نگاہ کر کے اپنی جبین نیاز خدا تعالیٰ کے آگے جھکاری اور عرض کیا کہ جو کچھ مجھے پڑھایا جانے لگا ہے میں تو اس لائق نہیں اور یہ جو کچھ آپ نے فرمایا بالکل درست اور بجا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے حضور میں یہی کلمہ کہنا بجا تھا اور آپ