انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 625 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 625

انوار العلوم جلدا ۶۲۵ سيرة النبي ال اس جگہ نقل کرنے سے کیا مطلب ہے اور اس سے آنحضرت ا کے انکسار کا کیا پتہ چلتا ہے لیکن جیسا کہ میں انشاء اللہ ابھی بتاؤں گا۔ یہ حدیث آپ کی منکسرانہ طبیعت پر تیز روشنی ڈالتی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انکسار سے آپ کادل معمور تھا اور کسی زمانہ میں بھی آپ سے یہ خلق نیک جدا نہیں ہوا۔ انکسار کے ساتھ کام کرنا دلالت کرتا ہے کہ یہ صفت کس شان کے ساتھ آپ" کے اندر تھی ورنہ بعض لوگ صرف سستی کی وجہ سے انکسار کرتے ہیں۔ م اس حدیث سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم ال کے سامنے جو فرشتہ آیا اس نے آپ سے کہا کہ پڑھ اور آپ نے اس کے جواب میں کہا کہ میں پڑھنا نہیں جانتا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ کا اس انکار سے کیا مطلب تھا آیا یہ کہ آپ تحریر پڑھنا نہیں جانتے یا یہ کہ عربی زبان کا دہرانا بھی نہیں جانتے۔ کیونکہ قراءت کا لفظ عربی زبان میں دو معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ ایک معنے اس کے کسی تحریر کو پڑھنے کے ہیں۔ اور دوسرے معنی کسی مقررہ عبارت کو اپنی زبان سے دہرانے کے ہیں چنانچہ جب کوئی شخص کسی کتاب کو پڑھے تو اس کی نسبت بھی کہیں گے کہ یقرأ الكِتَاب اور جب وہ کسی عبارت کو دہرائے گا تو اسے بھی کہیں گے کہ بیقراوہ پڑھتا ہے جیسا کہ قرآن کریم کو حفظ پڑھنا بھی قراءت کہلاتا ہے۔ پس اب سوال یہ ہے کہ آیا رسول اللہ ا نے جو یہ فرمایا کہ میں پڑھنا نہیں جانتا تو اس سے کیا مراد ہے ۔ آیا یہ کہ آپ تحریر نہیں پڑھ سکتے یا یہ کہ آپ کسی عبارت کو جو عربی زبان میں ہو دہرا بھی نہیں سکتے ۔ اگر یہ ثابت ہو کہ آپ کا مطلب یہ تھا کہ آپ تحریر نہیں پڑھ سکتے تب تو بات صاف ہے کیونکہ تاریخ سے ثابت ہے کہ آپ لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے لیکن یہ مطلب رسول کریم اس کا نہیں ہو سکتا کیونکہ صحیح احادیث سے ہرگز ثابت نہیں ہوتا کہ آپ کے سامنے اس فرشتہ نے کوئی تحریر رکھی تھی اور کہا تھا کہ اسے پڑھوتا آپ جواب دیتے کہ میں پڑھنا میں پڑھنا نہیں جانتا بلکہ جو کچھ صحیح اور مرفوع احادیث سے ثابت ہوتا ہے وہ یہی ہے کہ ایک فرشتہ آپ کے سامنے آیا اور اس نے آکر آپ سے کہا کہ آپ پڑھیں اور کوئی تحریر آپ کے سامنے پیش نہیں کی۔ چنانچہ بخاری کی جو حدیث او پر نقل کی گئی ہے اس سے بھی یہی ثابت ہے کہ اس فرشتہ نے آپ کے سامنے کوئی تحریر نہیں رکھی بلکہ صرف ہو شیار کرنے کے لئے کہا ہے کہ پڑھ ! جیسا کہ جب کسی شخص سے کوئی الفاظ کہلوانے ہوں تو کہلوانے والا عام طور پر کہہ دیا کرتا ہے کہ کہو۔ پس اس فرشتہ نے بھی یہی آپ سے کہا تھا کہ دہراؤ یعنی جو لفظ میں کہتا ہوں ان کو دہراتے جاؤ ۔ چنانچہ تیسری دفعہ فرشتہ نے منہ سے ہی الفاظ کہے نہ کہ کوئی تحریر رکھی۔ اگر پڑھوانا هم