انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 619 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 619

انوار العلوم جلدا ۶۱۹ مسيرة النبي ال انبیاء کے سید کو دیکھو کہ اصحاب الصفہ جن کو نہ کھانے کو روٹی نہ پہننے کو کپڑا نہ رہنے کو مکان میسر تھا ان کو اپنے گھر پر بلاتا ہے اور ایک نہیں دو نہیں ، ایک جماعت کی جماعت کو دودھ کا پیالہ دیتا ہے اور سب کو باری باری پلا کر سب کا بچا ہوا کم سے کم نصف درجن مونہوں سے گزرا ہوا دودھ سب سے آخر میں الحمد للہ کہتا ہو ا بسم اللہ کہہ کر پی جاتا ہے اور اس کے چہرہ پر بجائے نفرت کے آثار ظاہر ہونے کے خوشی اور فرحت اور شکر و امتنان کی علامات ہویدا ہوتی ہیں۔ بے شک دنیا میں بڑے بڑے لوگ گزرے ہیں لیکن اس شان و شوکت کا مالک ہو کر جو رسول کریم اس کو حاصل تھی پھر اس قدر تکبر سے بعد کی مثال کوئی پیش تو کرے ۔ لیکن خوب یا د رکھو کہ ایسی مثال پیش کرنے پر کوئی شخص قادر نہیں ہو سکتا۔ انکسار : تکبر کے متعلق دو مثالیں بیان کرنے کے بعد میں یہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ نہ صرف یہ کہ آپ کے اندر تکبر نہ تھا بلکہ اس کے علاوہ آپ کی طبیعت میں حد درجہ کا انکسار بھی تھا اور آپ ہمیشہ دوسرے کی تعظیم کرنے کے لئے تیار رہتے تھے اور اپنا رویہ ایسا رکھتے تھے جس سے دوسرے لوگوں کا ادب ظاہر ہو اور یہ وہ بات ہے کہ جس سے عام طور پر لوگ خالی ہوتے ہیں۔ خصوصاً امراء تو اس سے بالکل خالی ہی نظر آتے ہیں۔ ایسے تو شاید بہت سے امراء مل جائیں جو ایک حد تک تکبر سے بچے ہوئے ہوں لیکن ایسے امراء جو تکبر سے محفوظ ہونے کے علاوہ منکسر المزاج بھی ہوں ، شاذ و نادر ہی ملتے ہیں اور میرا یہ کہنا کہ شاذ و نادر منکسر المزاج امراء مل سکتے ہیں اس کا بھی یہ مطلب نہیں کہ ایسے امراء بھی ہیں جو ہیں جو اپنے انکسار میں رسول اللہ اللہ کا نمونہ ہیں۔ کیونکہ رسول کریم کا نمونہ تو انبیاء میں بھی نہیں مل سکتا چہ جائیکہ عام امراء میں مل جائے ۔ میرا یہ ایمان ہے کہ آپ اپنی تمام عادات اور تمام حرکات میں بے نظیر تھے اورا اور اخلاق کے تمام پہلوؤں میں کل انبیاء اور صلحاء پر فضیلت رکھتے تھے۔ پس میں اگر کسی جگہ دوسرے امراء سے آپ کا مقابلہ کرتا ہوں تو صرف یہ دکھانے کے لئے کہ بادشاہوں اور امراء میں بھی نیک نمونے تو موجود ہیں لیکن جس طرح ہر رنگ اور ہر پہلو میں آپ کامل تھے اس کی نظیر کہیں نہیں ملتی اور دو اور دو سرے یہ بتانے کے لئے کہ آپ کو صرف نیک بختوں میں اور صلحاء میں شامل کرنا درست نہیں ہو سکتا بلکہ کسی ایک خلق میں بھی بہتر سے بہتر نمونہ جو مل سکتا ہے اس ۔ ، اس سے بھی آپ کا نمونہ بڑھ کر تھا جو اس انکسار کا لفظ اردو محاورہ کی وجہ سے رکھا گیا ہے ورنہ عربی زبان میں انکساران معنوں میں استعمال نہیں ہو تا بلکہ اس کی بجائے تو اضع کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔