انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 618 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 618

انوار العلوم جلدا ۶۱۸ سيرة النبي ال آپ کو بادشاہانہ حاصل تھی کیونکہ حضرت ابو ہریرہ آ۔ رت ابو ہریرہ آپ کی وفات سے صرف تین سال پہلے مسلمان ہوئے تھے پس اگر یہ بھی فرض کر لیا جائے کہ مسلمان ہوتے ہی آپ کو یہ واقعہ پیش آیا تب بھی فتح خیبر کے بعد کا یہ واقعہ ہے جبکہ رسول کریم کی حکومت قائم ہو چکی تھی اور عرب کے کئی قبائل آپ کی اطاعت کا اقرار کر چکے تھے۔ آپ سے دنیاوی حیثیت میں ادنی لوگوں کو بلکہ معمولی معمولی اُمراء کو دیکھو کہ کیا تکبر اور عجب کے باعث وہ کسی شخص کا جوٹھا پی سکتے ہیں ؟ اس آزادی کے زمانہ میں بھی جبکہ تمام بنی نوع انسان کی برابری کے دعوے کئے جاتے ہیں۔ اس شان کو بنانے کے لئے طب کی آڑ تلاش کی جاتی ہے کہ ایک دوسرے کا جوٹھا پینے سے ایک دوسرے کی بیماری کے لگ جانے کا خطرہ ہوتا ہے حالانکہ اگر کوئی ایسی بیماری معلوم ہو تو اور بات ہے ورنہ رسول کریم تو فرماتے ہیں کہ سُورُ الْمُؤْمِنِ شِفَاءٌ مُؤمن کا جوٹھا استعمال کرنے میں بیماری ماری سے شفاء ہوتی ہے۔ پھر مسلمان کہلانے والوں کا کیا حق ہے کہ اس فتوی کے ہوتے ہوئے اپنے تکبر کو پورا کرنے کے لئے اس تار عنکبوت عذر کے پیچھے پناہ لیں۔ غرض اس آزادی کے زمانہ میں بھی بادشاہ تو الگ رہے عام لوگ بھی پسند نہیں کرتے کہ اپنے سے نیچے درجہ کے آدمی کا جوٹھا کھانا یا پانی استعمال کریں اور خواہ دنیاوی حیثیت میں ان سے ادنی درجہ کا آدمی کس قدر ہی صاف اور نظیف کیوں نہ ہو اور ہر قسم کی میلوں اور گندوں سے کتنا ہی پاک کیوں نہ ہو اس کے جو ٹھے کھانے یا پینے کو کبھی استعمال نہیں کرتے اور اس کو برا مناتے ہیں اور اس کو اپنی ہتک خیال کرتے ہیں۔ اور پھر امارت ظاہری الگ رہی ، قومیتوں کے لحاظ سے بھی ایسے درجہ مقرر کئے گئے ہیں کہ ایک ادنی قوم کے شخص کا جوٹھا کھانا یا پانی استعمال کرنا اعلیٰ قوم کے لوگ عار خیال کرتے ہیں خود ہمارے گھر میں ایک دفعہ یہ واقعہ ہوا کہ ایک سیدانی بغرض سوال آئی۔ باتیں کرتے کرتے اس نے پانی مانگا۔ ایک عورت اس کو پانی دینے کے لئے اٹھی اور جو بر تن گھڑوں کے پاس پانی پینے کے لئے رکھا تھا اس میں اس نے اسے پانی دیا ۔ وہ سیدانی بھی سامنے بیٹھی تھی اس بات کو دیکھ کر آگ بگولا ہو گئی اور بولی کہ شرم نہیں آتی۔ میں سیدانی ہوں اور تو امتیوں کے جو ٹھے برتن میں پانی دیتی ہے۔ نئے برتن میں مجھے پانی پلانا چاہئے تھا۔ غرض صرف سادات میں سے ہونے کی وجہ سے باوجود اس کے کہ وہ ہمارے ہاں سوال کرنے آئی تھی اور محتاج تھی اس نے اس قدر تکبر کا اظہار کیا کہ دو سرے آدمی کا مستعمل بر تن جو سید نہ ہو اس کے سامنے پیش کرنا گویا اس کی ہتک تھی۔ جب مستعمل لیکن صاف کردہ برتن سے اس قدر نفرت تھی تو جو ٹھا پانی تو پھر نہایت نا پاک شے سمجھی جاتی ہو گی لیکن اس سیدوں کے باپ بلکہ