انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 601 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 601

سيرة النبي ال ۶۰۱ XXX انوار العلوم جلد ا صلى الله رتبہ اور عظیم القدر ہے۔ اور پھر جب اس نے کہا کہ لنا عزّى وَلَا عُزَّى لَكُمْ تو آپ نے پھر صحابہؓ سے فرمایا کہ جواب دو۔ انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ کیا جواب دیں تو آپ نے فرمایا کہ کہولنَا مَوْلَى وَلا مَوْلَى لَكُمْ خدا تعالیٰ ہمارا دوست و مددگار ہے۔ اور تمہارا مددگار کوئی نہیں یعنی عربی میں کچھ طاقت نہیں طاقت تو اللہ تعالیٰ میں ہے اور وہ ہمارے ساتھ ہے۔ پس اس واقعہ سے صاف مل جاتا ۔ اف کھل جاتا ہے کہ حضرت : حضرت عائشہ نے آنحضرت ﷺ کے اخلاق کے متعلق جو گواہی دی ہے وہ صرف ان کا خیال ہی نہیں بلکہ واقعات بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں اور تاریخی ثبوت اس کی سچائی کی شہادت دیتے ہیں۔ اور آنحضرت ﷺ کی زندگی پر غور کرنے سے ایک موٹی سے موٹی عقل کا انسان بھی اس نتیجہ پر پہنچ جاتا ہے کہ آپ کا تحمل کسی صفت حسنہ کے فقدان کا نتیجہ نہ تھا بلکہ اس کا باعث آپ کے وہ اعلیٰ اخلاق تھے جن کی نظیر دنیا میں کسی زمانہ کے لوگوں میں بھی نہیں ملتی ۔ اور یہ کہ گو یا تحمل اپنے کمال کے درجہ کو پہنچا ہوا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حرمات کا سوال جب درمیان میں آجاتا تو اس وقت آنحضرت ہر گز در گزر سے کام نہ لیتے ۔ بلکہ جس قدر جلد ممکن ہوتا مناسب تدارک فرما دیتے اور اللہ تعالی کے جلال کے قائم کرنے میں ہرگز دیر نہ فرماتے ۔ پس آپ کا تحمل ایک طرف تو بے نظیر تھا اور دوسری طرف بالا رادہ تھا اور ؟ پھر آپ کی اس صفت کا اظہار کبھی بے موقعہ نہیں ہوتا تھا جیسا کہ آج کل کے زمانہ کا حال ہے کہ اپنے نفس کے معاملہ میں تو لوگ ذرا ذرا سی بات میں جوش میں آجاتے ہیں۔ لیکن جب خدا اور اس کے دین کا معاملہ آتا ہے تو صبر وتحمل کی تعلیم و تلقین کرتے ہوئے ان کے ہونٹ خشک ہوئے جاتے ہیں۔ اور وہ نہیں جانتے کہ تحمل صرف ذاتی تکلیف اور دکھ کے وقت ہوتا ہے ورنہ دین کے معاملہ میں بناوٹی صلح اور جھوٹا ملاپ ایک بے غیرتی ہے اور کمی ایمان اور حرص دنیاوی کا ثبوت ہے۔ طہارۃ النفس - صبر صبر عربی زبان میں روکنے کو کہتے ہیں اور استعمال میں یہ لفظ تین معنوں میں آتا ہے۔ کسی شخص کا اپنے آپ کو اچھی باتوں پر قائم رکھنا ۔ بُری باتوں سے اپنے آپ کو روکنا اور مصیبت اور دکھ کے وقت جزع و فزع سے پر ہیز کرنا اور تکلیف کے ایسے اظہار سے جس میں گھبراہٹ اور نا امیدی پائی جائے اجتناب کرنا۔ اُردو زبان میں یا دوسری زبانوں میں یہ لفظ ایسا وسیع نہیں ہے بلکہ اسے ایک خاص محدود معنوں میں استعمال کرتے ہیں اور صرف تیسرے اور آخری معنوں کیلئے اس لفظ کو مخصوص کر دیا گیا ہے یعنی مصیبت اور رنج میں اپنے نفس کو جزع و فزع اور نا امیدی اور کرب کے اظہار سے روک دینے کے اور معنوں میں ۔ چونکہ اُردو میں اس کا استعمال انہیں معنوں میں ہے اس لئے ہم نے بھی اس لفظ کو اسی *XXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXΣ