انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 600 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 600

انوار العلوم جلدا ۶۰۰ سيرة النبي کرتے۔ جب تک اس کا انتقام لے کر اللہ تعالیٰ کے جلال کو ظاہر نہ فرما لیتے اور شریر انسان کو جو ہتک حرمۃ اللہ کا مر تکب ہوا ہو سزا نہ دے لیتے۔ اس واقعہ سے صاف ظاہر ہو جاتا ہے کہ آپ کا تقبل اس درجہ تک پہنچا ہوا تھا کہ آپ کبھی بھی اپنے نفس کے لئے جوش کا اظہار نہ فرماتے بلکہ تحمل اور بردباری سے ہی ہمیشہ کام لیتے۔ لیکن یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ یہ بات قطعا درست نہیں کہ آپ میں جوش و انتقام کی صفت پائی ہی نہ جاتی تھی اور آپ پیدائش سے ہی ایسے نرم مزاج واقعہ ہوئے تھے کہ غضب آپ میں پیدا ہی نہیں ہو سکتا تھا بلکہ جب اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حرمتوں کی ہتک اور بے حرمتی کا سوال پیدا ہو تا تو آپ ضرور انتقام لیتے تھے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا تحمل کسی پیدائشی کمزوری یا نقص کا نتیجہ : کا نتیجہ نہ تھا بلکہ آپ اپنے اخلاق کی وجہ سے اپنے نفس کے قصور داروں سے چشم پوشی کر جاتے تھے ۔ اور اظہار ناراضگی سے اجتناب کرتے تھے ۔ اور جو کچھ اور جو کچھ کہنا بھی ہوتا تھا تو نہایت آہستگی اور نرمی سے۔ اور نرمی سے کہتے تھے اور ایسا جواب دیتے تھے جس میں بجائے ناراضگی اور غضب کے اظہار کے اس شخص کے لئے کوئی مفید سبق ہو جس سے وہ اپنی آئندہ زندگی میں اپنے چال چلن کی اصلاح کر سکے ۔ اور یہی تحمل کا اعلیٰ نمونہ ہے۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ حضرت عائشہ کی یہ شہادت بلا دلیل نہیں ہے بلکہ واقعات بھی اس کی شہادت دیتے ہیں چنانچہ بخاری کی ایک حدیث سے ظاہر ہے جسے مفصل ہم پہلے کسی اور جگہ لکھ آئے ہیں کہ جنگ احد میں جب عام طور پر یہ خبر مشہور ہو گئی کہ آنحضرت ا شہید ہو گئے ہیں اور کفار مکہ علی الاعلان اپنی اس کامیابی پر فخر کرنے لگے اور ان کے سردار نے بڑے زور سے پکار کر کہا کہ کیا تم میں محمد ) ہے جس سے اس کی مراد یہ بتانا تھا کہ ہم آپ کو مار چکے ہیں اور آپ الله دنیا سے رحلت فرما گئے ہیں مگر آنحضرت ﷺ نے اپنے اصحاب کو فرمایا کوئی جوا ل جواب نہ دیں۔ اور اس طرح اس کا جھوٹا نخر پورا ہونے دیا۔ اور یہ نہیں کہا کہ غضب میں آکر اسے کہتے کہ میں تو زندہ موجود ہوں یہ بات کہ تم نے مجھے قتل کر دیا ہے بالکل جھوٹ اور باطل ہے اور اس میں کوئی صداقت نہیں۔ ہاں جب ابو سفیان نے یہ کہا کہ اُعْلُ هُبَلْ اُعْلُ هُبَل - حبل بت کی شان بلند ہو - مبل بت کی شان بلند ہو تو اس وقت آپ خاموش نہ رہ سکے اور صحابہ کو یہ کو فرمایا کہ کیوں جوار مہ کیوں جواب نہیں دیتے۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا جواب دیں۔ اللہ کیا جواب دیں۔ فرمایا اسے کہو کہ اللهُ أَعْلَى وَاجَلُّ اللَّهُ أَعْلَى وَ اجد یعنی تمہارے قبل میں کیا طاقت ہے وہ تو ایک بناوٹی چیز ہے اللہ ہی ہے جو سب چیزوں سے بلند