انوارالعلوم (جلد 1) — Page 30
انوار العلوم جلد 1 محبت الهی جگہ اصل مطلب تو میرا یہ ہے کہ اخلاص اور محبت الہیہ سے انسان گناہوں سے بچ جاتا ہے۔ اور محبت کے درجے مختلف ہیں۔ جتنی محبت ہو گی اسی قدر قرب الہی نصیب ہو گا اور گناہوں سے بچنے کی توفیق ملے گی۔ پس ضروری ہوا کہ گناہوں سے بچنے کیلئے اور ترقی درجات کے لئے ہم اپنا تعلق خدا سے بڑھا ئیں اور اپنے دل میں وہ اخلاص اور وہ محبت پیدا کریں جس سے کہ ہم خدا تعالیٰ کے قریب ہو جائیں اور شیطان ہم پر حملہ کرنے سے روکا جائے اور ہم ایک سورج کی طرح ہوں جس سے ایک دنیا روشنی پکڑتی ہے۔ مگر مسئلہ زیر بحث تو یہ ہے کہ آیادہ خدا جس سے ہمیں محبت کرنی چاہئے وہ عیسائیوں کا خدا ہے ، یہودیوں کا خدا ہے ہندوؤں کا خدا ہے یا مسلمانوں کا خدا ہے۔ اس جگہ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ خدا تو ایک ہی ہے مگر مختلف مذاہب مختلف رنگوں میں اس کو پیش کرتے ہیں اور مختلف شریعتیں اس کی طرف منسوب کی جاتی ہیں اور یہ مذاہب کا جھگڑا بہت پرانے زمانہ سے چلا آتا ہے۔ اس لئے ایک صاحب بصیرت کا فرض ہے کہ وہ غور سے سب مذاہب پر نظر ڈالتے ہوئے فیصلہ کرے کہ کون سا مذہب سچا اور کون سا خدا اس قابل ہے کہ اس سے محبت کی جائے۔ بالفاظ دیگر کون ساندہب ہے جو کہ خدا کی طرف سے ہے۔ اب اس موقع پر ہم مختلف مذاہب پر ایک مختصر نظر ڈالنا چاہتے ہیں تاکہ ناظرین اس سے فائدہ اٹھا ئیں اور کسی وقت جب کہ ان کو اس قسم کا مباحثہ کرنا پڑے تو اس پر نظر رکھیں۔ پہلے ہم عیسائیوں کے خدا کو لیتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ عیسائی اپنے خدا کی نسبت کیا عقیدہ رکھتے ہیں دیکھا جاتا ہے کہ عیسائی ایک مدت سے توحید فی التثلیث اور تثلیث فی التوحید کے قائل ہیں۔ یعنی وہ اس بات کے قائل ہیں کہ توحید تثلیث میں ہے اور تثلیث توحید میں ہے اگر چہ یہ ایک ایسی چیز ہے جو انسانی سمجھ میں نہیں آسکتی۔ کیونکہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ ایک تین ہو اور تین ایک مگر خواہ یہ ٹھیک ہو یا نہ ہو عیسائی ایسا عقیدہ رکھتے ہیں اور تین کے قائل ہیں اور پھر ساتھ ہی ایک کے وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ باپ بیٹا اور روح القدس تین خدا ہیں لیکن ساتھ ہی یہ سب ایک ہی ہیں۔ پہلے تو ہم اس بات پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ مذہب بہت کچھ انسانی دست برد کے اس وقت بہت سے ناظرین کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا ہو گا کہ ایک فرقہ تو خدا کا منکر ہی ہے پس پہلے خدا ثابت کیا جائے تو پھر کوئی اور بات شروع ہوگی مگر یاد رکھنا چاہئے کہ میرا مضمون ہے دہریہ کے خیالات کا رد کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں کہ محبت کا مادہ دل میں ہو اور محبوب کوئی نہ ہو جبکہ دل میں محبت کا مادہ موجود ہے کہ اس کا صانع یا خالق کوئی ہے جس نے محبت کا مادہ دل میں پیدا کیا ہے اور انسانی دل بھی خواہ مخواہ اس کی طرف کشش کرتا ہے کہ اس کو ڈھونڈ نکالے۔ پھر ہم دہریہ سے سوال کرتے ہیں کہ خلائق کسن نے پیدا کی اور جب وہ ذرات عالم کی طرف اشارہ کرے تو پھر یہ سوال ہو گا کہ ان کو کس نے پیدا کیا۔ اور اسی طرف ایک حد تک چل کر ایک طاقت ماننی پڑے گی جو کہ یہ سب کام چلا رہی ہے پس وہی تو خدا ہے جو خالق ارض و سماء اور علیم و خبیر ہے تمام نیک صفات کا مجموعہ ہے۔ پس دہریہ کا ابطال تو یہ مضمون خود کر رہا ہے پھر اس کا ذکر لانا یا الکل فضول ہے۔