انوارالعلوم (جلد 1) — Page 29
انوار العلوم جلد | ۲۹ محبت الهی سکتی ہے ۔ تو کیا وجہ کہ تم ایک فانی چیز سے اس قدر محبت کرتے ہو تم کو تو چاہئے کہ تم مجھ سے محبت کرو جو فانی نہیں ۔ وہ چیزیں تو تم سے جدا ہونے والی ہیں اور اس کے بر خلاف میری طرف تم لوٹنے والے ہو اور مجھ سے تم کو جدائی نہیں تو بتلاؤ کہ ایسی چیز سے محبت کرنی چاہئے جو جدا ہونے والی ہے اور آخر رنج دینے والی ہے یا اس ہستی سے جس کی طرف لوٹنا ہو گا۔ اور اس سے کبھی لوٹنا نہ ہو گا اور ہمیشہ اس محبت کا ثمرہ ملتا رہے گا۔ پس جب انسان کسی خسارہ یا تکلیف کے وقت اس فقرہ کو زبان پر لاتا ہے تو اس کے دل میں نور اصبر اور استقلال کی ترغیب پیدا ہوتی ہے ۔ کہ کیا وجہ میں ایک فانی چیز سے محبت کروں جبکہ نہایت حسین اور نہایت پیارا غیر فانی خدا میرے سامنے محبت کرنے کو موجود ہے۔ مگر جب انسان خدا سے محبت کرتا ہے تو ساتھ ہی اس کے دل میں خدا کی مخلوق کی محبت بھی جوش زن ہوتی ہے اور جتنا وہ اس میں بڑھتا جاتا ہے اتنا ہی اس میں بھی ترقی کرتا ہے۔ اس وقت انسان جس چیز کو دیکھتا ہے معاً قادر خدا کی قدرت یاد آجاتی ہے کہ یہ سب صناعیاں اس کی ہیں۔ اور جو کچھ ہمیں نظر آتا ہے وہ سب اس کی مخلوق ہے۔ پس بوجہ اس کے کہ وہ اس کے محبوب کی بنائی ہوئی چیز ہے اور اس کے ارادہ اور حکم سے بنی ہے وہ اس کی قدر کرتا ہے اور اسی لئے وہ ان گناہوں سے بچ جاتا ہے جن میں کہ دوسرے لوگ اس وجہ سے پھنے ہوئے ہوتے ہیں کہ ان کو خدا سے محبت نہیں ہوتی یا اس درجہ تک نہیں ہوتی مثلاً ایک خدا سے محبت کرنے والا انسان اسراف سے پر ہیز کرے گا کیونکہ وہ برداشت ہی نہیں کر سکے گا کہ ایک چیز جو کہ خدا نے اس کو دی ہے بلا ضرورت اور بلا وجہ ضائع کی جائے اور وہ ظلم و تعدی سے پر ہیز کرے گا کیونکہ اس کی طبیعت اس کی متحمل نہیں ہو سکے گی کہ خدا تعالیٰ کی بنائی چیز کو تباہ کرے اور اسی طرح اس محبت سے جو کہ ایک انسان کو خدا سے ہو وہ دیگر تمام گناہوں اور کمزوریوں سے بچتا ہے۔ اور بر خلاف اس کے جو خدا تعالٰی سے محبت نہیں رکھتا اگر انجام کے خوف سے اور سزا کے ڈر سے گناہوں اور بدیوں سے بچنے کی کوشش بھی کرے تو اس حد تک نہیں بچ سکتا جہاں تک کہ وہ شخص جو کہ محبت اور اخلاص کی وجہ سے بچتا ہے۔ اس وقت یہ بھی کہہ دینا ضروری ہے کہ اخلاص سے کام کرنے والا انسان بھی ایک قسم کی سزا کا ڈر اور خوف رکھتا ہے مگر وہ بھی اس لئے ہوتا ہے کہ کہیں میری محبت میں خلل نہ آجائے اور ایسا نہ ہو کہ میں خدا تعالیٰ سے دور جاپڑوں ۔ ہاں بعض اولیاء کے قول سے یہ بھی ظاہر ہے کہ ایسے انسان بھی دنیا میں ہوتے ہیں جن کے دل میں خوف دوزخ یا امید بهشت کچھ بھی نہیں ہوتا اور صرف اس اخلاص اور محبت کی وجہ سے اعمال کرتے ہیں جو کہ ان کو خدا سے ہوتا ہے اس