انوارالعلوم (جلد 1) — Page 531
3 انوار العلوم جلدا ۵۳۱ سيرة النبي ہماری ہی طرح تھے اور نعوذ باللہ ان کے دل ہماری طرح ہی تاریک تھے اور لوگوں کو دھوکہ دینے کے لئے بڑے بڑے دعوے کرتے تھے ۔ ان واقعات سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ بے فائدہ مشقت بھی خطرناک ہوتی ہے اور نفس کو ایسے ابتلاؤں میں ڈالنا کہ جو غیر ضروری ہیں بجائے فائدہ کے مہلک ثابت ہوتا ہے۔ اسی لئے آنحضرت ال جو تمام تمام و دنیا کے لئے رحمت رحمت ہو کر آئے کے تھے تھے اپنے اپنے صحاب صحابہ کو روکتے تھے کہ وہ اپنے نفوس کو حد سے زیادہ مشقت میں نہ ڈالیں چنانچہ لکھا ہے کہ ایک صحابی ایک دوست کے ہاں گئے تو آپ کو معلوم ہوا کہ وہ سارا وه سارا دن روزه را زہ رکھتا اور رات کو اور رات کو تہجد میں وقت گزارتا وقت گزارتا ہے۔ اس پر انہوں نے انہیں ڈانٹا جس پر یہ معاملہ آنحضرت ا کے پاس پہنچا آپ نے فرمایا اس نے ٹھیک ڈانٹا کیونکہ انسان پر بہت سے حقوق ہیں ان کا پورا کرنا اس کے لئے ضروری ہے۔ خود آنحضرت کا عمل ثابت کرتا ہے کہ آپ ہمیشہ احکام الہی کے پورا کرنے میں چست رہتے اور ایسے جوش کے ساتھ خدا اتعالیٰ کی عبادت کرتے کہ جو ان جو ان صحابہ آپ کا مقابلہ نہ کر سکتے تھے جیسا کہ میں بالتفصیل آپ کی عبادت کے ذکر میں لکھ آیا ہوں لیکن باوجود اس کے آپ آسان راہ کو قبول کرتے اور اپنے نفس کو بے فائدہ رکھ نہ دیتے بلکہ فرمایا کرتے تھے کہ اس وقت تک عبادت کرو جب تک دل ملول نہ ہو جائے۔ حضرت عائشہ آپ کے اعمال کی نسبت فرماتی ہیں تمھا خُيْرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلَّا أَخَذَ أَيْسَرَ هُمَا مَا لَمْ يَكُنْ إِثْماً فَإِنْ كَانَ إِثْمَا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ ( بخارى كتاب بدء الخلق باب ۔ باب صفة النبي صلى الله عليه وسلم) رسول اللہ اس کو کسی دو باتوں میں اختیار نہیں دیا گیا مگر آپ نے اسے سے قبول کیا جو دونوں میں سے آسان تر تھی بشر طیکہ گناہ نہ ہو اور اگر کسی کام میں گناہ ہو تا تو سب لوگوں سے زیادہ آپ اس سے بچتے ۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ آسان راہ کو اختیار کیا کرتے تھے اور تکلیف میں اپنے آپ کو نہ ڈالتے ۔ ایک خیال جو اس حدیث سے پیدا ہو سکتا تھا کہ گویا آپ خدا کے راستہ میں مشقت نه برداشت کر سکتے تھے ( نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذلِكَ ، اس کار د بھی خود حضرت عائشہ نے فرما دیا کہ یہ بات اس وقت تک تھی کہ جہاں دین کا معاملہ نہ ہو ۔ اگر کسی موقع پر آسانی اختیار کرنادین میں نقص پیدا کرتا ہو تو پھر آپ سے زیادہ اس آسانی کا دشمن کوئی نہ ہوتا۔ یہ وہ کمال ہے جس سے آپ کی ذات تمام انبیاء پر فضیلت رکھتی ہے کہ وہ اپنے اپنے رنگ میں کامل تھے لیکن آپ ہر رنگ میں کامل تھے ۔ کوئی پہلو بھی تو انسانی زندگی کا ایسا نہیں جس میں آپ دوسروں سے پیچھے ہوں یا ان ا