انوارالعلوم (جلد 1) — Page 530
انو را العلوم جلدا ۵۳۰ سيرة النبي آتی ہے کہ مَا لَا عَيْنَ رَأَتْ وَلَا أُذُنَ سَمِعَتْ۔ لیکن باوجود اس بات کے پھر بھی نہیں کہہ سکتے کہ اللہ تعالی مشقت اٹھانے سے حاصل ہو سکتا ہے کیونکہ بہت سے انسان اپنی عمر کو رانگاں کر دیتے ہیں اور کسی اعلیٰ درجہ پر نہیں پہنچتے ۔ اہل ہنود میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں کہ جو اپنے ہاتھ سکھا دیتے ہیں۔ ایسے بھی پائے جاتے ہیں کہ جو سردیوں میں پانی میں کھڑے رہتے ہیں اور گرمیوں میں اپنے ارد گرد آگ جلا کر اس کے اندر اپنا وقت گزارتے ہیں۔ ایسے بھی ہیں کہ جو سارا دن سورج کی طرف ٹکٹکی لگا کر دیکھتے رہتے ہیں اور جدھر سورج پھرتا جائے ان کی نظر اس کے ساتھ پھرتی جاتی ہے۔ پھر ایسے بھی ہیں جو نجاست اور گندگی کھاتے ہیں مردوں کا گوشت کھاتے ہیں۔ غرض کہ طرح طرح کی مشقتوں اور تکالیف کو برداشت کرتے ہیں اور ان کا منشا یہی ہوتا ہے کہ وہ خدا کو پالیں لیکن اکثر دیکھا گیا ہے کہ یہ لوگ بجائے روحانیت میں ترقی کرنے کے اور گرتے جاتے ہیں۔ مسیحیوں میں بھی ایک جماعت پادریوں کی ہے جو نہانے سے پر ہیز کرتی ہے۔ نکاح نہیں کرتی۔ صوف کے کپڑے پہنتی اور بہت اقسام طیبات سے محترز رہتی ہے لیکن اسے وہ نور قلب عطا نہیں ہو تا جس سے سمجھا جائے کہ خدا تعالیٰ انہیں حاصل ہو گیا بلکہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ ان لوگوں کے اخلاق عام مسیحیوں کی نسبت گرے ہوئے ہوتے ہیں۔ مسلمانوں میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو سارا سال روزہ رکھتے ہیں اور ہمیشہ روزہ حالانکہ رسول کریم ال نے دائمی روزے رکھنے سے نے سے منع فرمایا ہے پھر بعض لوگ طیبات سے پر ہیز کرتے ہیں۔ اپنے نفس کو خواہ مخواہ کی مشقتوں میں ڈالتے۔ مشقتوں میں ڈالتے ہیں لیکن پھر بھی کوئی کمال حاصل نہیں ہوتا۔ غرض کہ جس طرح بغیر محنت و کوشش کے خدا تعالیٰ نہیں ملتا اسی طرح اپنے نفس کو بلا فائدہ مشقت میں ڈالنے سے بھی خدا نہیں ملتا بلکہ الٹا نقصان پہنچ جاتا ہے۔ میں نے ایسے لوگ دیکھے ہیں کہ جنہوں نے اول اول تو شوق سے سخت سے سخت محنت اٹھا کر بعض عبادات کو بجالانا شروع کیا اور اپنے نفس پر وہ بوجھ رکھا جسے وہ برداشت نہیں کر سکتا تھا اور آخر تھک کر ایسے چور ہوئے کہ عبادت تو کجا خد اتعالیٰ کی ہستی سے ہی منکر ہو گئے اور کہنے لگے کہ اگر کوئی خدا ہوتا تو ہماری ان محنتوں کو ضائع کیوں کرتا ہم تو اس کوشش و محنت سے ورد و ظائف کرتے رہے لیکن وہاں سے ہمیں کچھ اجر بھی نہیں ملا اور آسمان کے دروازے چھوڑ آسمان کی کوئی کھڑکی بھی ہمارے لئے نہیں کھلی۔ اور جب یہ شکوک ان کے دلوں میں پیدا ہونے شروع ہوئے تو وہ گناہوں پر دلیر ہو گئے اور وعظ و پند کو بناوٹ سمجھ لیا اور خیال کر لیا کہ ہم سے پہلے جو لوگ گزرے ہیں وہ بھی سے رہتے ہیں حالا