انوارالعلوم (جلد 1) — Page 26
انوار العلوم جلد | ۲۶ محبت الهی کوئی چیز ایسی ہے یا خصوصیت ہے جو اس کی آنکھوں کو پسند آگئی ہے اور حسن سیرت اس طرح کہ کسی کے اچھے اخلاق اور عمدہ برتاؤ سے ایک شخص کا دل اس طرف مائل ہو جاتا ہے اور ایسی محبت اس کے دل میں پیدا کر دیتا ہے کہ وہ محبت کرنے والا شخص اس دوسرے شخص کی جگہ اپنے دل میں خاص طور سے پاتا ہے۔ اور حسن انجام اس طرح کہ ایک شخص کسی کام کے شروع کرنے سے پہلے سوچتا ہے اور غور کرتا ہے کہ اس کا انجام کیا ہو گا جب وہ اس کے انجام کو اچھا اور سود مند دیکھتا ہے تو وہ ہر طرح سے اس کام کو پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے یہ تین قسم کی محبتیں ہیں جو میرے خیال میں طرح طرح کی مشکلوں میں انسان کی زندگی میں پیش آتی ہیں ۔ بعض دفعہ انسان ایک چیز سے محبت کرتا ہے اور نہیں جانتا کہ مجھ کو اس سے کیوں محبت ہے اگر چہ اس کی کوئی نہ کوئی وجہ ضرور ہوتی ہے لیکن اس شخص کی نظروں سے پوشیدہ دیکھا جاتا ہے کہ ایک آدمی مدت تک ایک جگہ رہتا اور پھر جب وہ کسی وجہ سے اس جگہ کو چھوڑتا ہے تو اس کے دل میں ایک قسم کا قلق اور گھبراہٹ پائی جاتی ہے۔ حالانکہ وہ جتنی مدت تک اس جگہ رہا کبھی بھی اس جگہ کی محبت اس کے دل میں جوش زن نہیں ہوئی۔ اسی طرح دو بچپن کے دوست جو ایک جگہ رہتے رہے ہیں اور جنہوں نے ایک ہی جگہ تعلیم پائی ہے ۔ شاید بہت کم ایسے موقعہ پاتے ہوں گے کہ انہیں ایک دوسرے کی محبت محسوس ہو لیکن جدائی اچانک آکر اس محبت کو شعلہ زن کر دیتی ہے جو ان کے دلوں میں مدت سے خفیہ طور پر بڑھ رہی تھی اس وقت وہ جانتے ہیں اور ان کے دل اچھی طرح محسوس کر لیتے ہیں کہ ہاں ہمیں آپس میں محبت تھی اس بات سے معلوم ہوتا ہے کہ محبت اس آگ کی طرح ہے جو آہستہ آہستہ دیکھتی رہتی ہے اور جب اس کو کسی چیز سے ہلایا جاتا ہے تو وہ اچانک شعلہ زن ہوتی ہے۔ میرے خیال میں استغفار پڑھنے کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے۔ کہ محبت الہی کی آگ کو بھڑکایا جائے کیونکہ انسان استغفار پڑھنے کے وقت اپنے گناہوں کو اپنے سامنے دیکھتا ہے اور جانتا ہے کہ اگر یہی حالت رہی تو یہ گناہ مجھ میں اور میرے پیارے میں جدائی ڈالین گے ۔ اور آخر کار میں خدا تعالیٰ سے دور جا پڑوں گا جس سے میں محبت کرتا ہوں اور شیطان کے نزدیک ہو جاؤں گا۔ جس سے میں نفرت کرتا ہوں۔ پس اس جدائی کو سامنے دیکھ کر وہ کانپ اٹھتا ہے اور خدا تعالیٰ کی محبت اس کے دل میں اور بھی جوش زن ہوتی ہے۔ اور اس طرح وہ ان گناہوں کو یک لخت ترک کر دیتا ہے جن کی کہ وہ واقفیت حاصل کر لیتا ہے اور ان بندوں کے لئے جو آخر کار گناہوں کے پھندے سے نکل جاتے ہیں استغفار ایک ترقی کا موجب ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ جتنا خدا کے قریب جاتے ہیں اتنا ہی ان کے دل میں