انوارالعلوم (جلد 1) — Page 25
انوار العلوم جلد 1 ۲۵ محبت الهی کرتا ہے جو آخر مرنے والا ہے تباہی ہر وقت اس کا انتظار کر رہی ہے اور اس وقت اس سے محبت کرنے والے کو سوائے تباہی بربادی ذلت اور رسوائی کے کچھ حاصل نہ ہو گا۔ ہاں مگر اس شخص کو جو کسی دوسرے سے خدا کی رضا کے حاصل کرنے کے لئے محبت کرتا ہے گو کہ وہ فانی چیز ہے لیکن خدا کی رضا تو فانی نہیں۔ جب ایک شخص خدا کے رسول سے محبت کرتا ہے کہ اس کی بدولت میں خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کروں اور تاکہ خدا کی رضا میرے شامل حال ہو جائے اس محبت میں وہ روز بروز ترقی حاصل کرتا اور آخر کار سب رشتوں سے زیادہ وہ اس کو عزیز ہو جاتا ہے باپ بیٹا بھائی اور دوسرے عزیزوں کی محبت اس کے دل میں کہیں کم ہوتی ہے بہ نسبت اس محبت کے جو وہ خدا کے رسول سے کرتا ہے۔ یہ محبت اگرچہ ایک انسان سے ہوتی ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ خدا کی محبت بھی ترقی کرتی جاتی ہے اور جب ایک شخص اس غرض سے اپنے ماں باپ اور بیوی بچوں اور بھائی سے محبت کرتا ہے کہ خدا کا حکم ہے تو اس محبت کی تہہ میں بھی خدا کی ہی محبت ہوتی ہے۔ قیامت کے دن ایسے شخص کے سر پر خدا کا سایہ ہو گا۔ اور اس قادر مطلق مالک یوم الدین کی پیاری آواز اس شخص کے کان میں آئے گی اور اس وقت اس کو کیسی خوشی ہو گی جب وہ سنے گا کہ اے میرے بندے تو نے مجھ سے محبت کی اور میرے لئے تکلیفیں اٹھا ئیں تیرا چلنا پھرنا کھانا پینا اور جاگنا سونا سب میرے ہی لئے تھا۔ تو نے میری رضا کو اپنی رضا پر مقدم رکھا اور جن سے میں نے کہا تھا تو نے محبت کی اور جن کے تعلق سے میں ناراض تھا تو ان سے الگ رہا۔ اس وقت کیسی خوشکن آواز اس کے کان میں پڑے گی کہ ۔ فَادْخُلِي فِي عِبْدِي وَادْخُلِي جَنَّتِي (الفيز الفجر (۲۰۳) ۳۰۳۰ اس وقت اس کو ان چند روزه تکالیف کے بدلے جو کہ اس نے خدا کے لئے برداشت کی ہوں گی دائمی بهشت ملے گا اور وہ ہمیشہ کیلئے اس محبت کا ثمرہ پالے گا جو اس نے خدا سے کی۔ میں اس جگہ یہ بھی بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ محبت و ہی نہیں کہ جو کسی انسان سے کی جائے یا کسی اور چیز سے کی جائے بلکہ میرے خیال میں ہر اک کام میں جو انسان کرتا ہے اور ہر اک بات جس کو انسان ترک کرتا ہے اس کی محبت یا نفرت کی وجہ سے ہوتا ہے۔ انسان اپنے پیدا ہونے کے وقت سے جتنے کام کرتا ہے سب محبت کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ کیونکہ جب انسان کو کسی کام کی محبت نہ ہو تو وہ و تو وہ کیونکر اس کو کر سکتا ہے۔ اب یہ دیکھنا چاہئے کہ محبت کیونکر پیدا ہوتی ہے میرے خیال میں محبت حسن سے پیدا ہوتی ہے اور شاید سب دنیا اس کو قبول کرتی ہوگی۔ اب خواہ حسن صورت ہو خواہ حسن سیرت ہو اور خواہ حسن انجام ہو ۔ حسن صورت اس طرح کہ انسان ایک چیز کو اس لئے پسند کرتا ہے کہ اس کی شکل بھا گئی ہے اور اس میں ம் ی