انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 501 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 501

انوار العلوم جلدا ۵۰۱ سيرة النبي ال کو شکست دی۔ مسیلمہ رسول کریم کی زند کریم کی زندگی میں ایک لشکر جرار لے کر آپ کے پاس مدینہ میں آیا اور آپ سے اس بات کی درخواست کی کہ اگر آپ اسے اپنے بعد خلیفہ بنالیں تو وہ اپنی جماعت سمیت آپ کی اتباع اختیار کرلے گا اور اسلام کی حالت چاہتی تھی کہ آپ اس ذریعہ کو اختیار کر لیتے اور اس کی مدد سے فائدہ اٹھا لیتے لیکن جس پاک وجود کو خداتعالیٰ کی طاقت پر بھروسہ اور توکل تھا اور وہ انسانی منصوبوں کی ذرہ بھر بھی پرواہ نہ کر سکتا تھا آپ نے اس کی درخواست کو فور ارد کر دیا۔ حضرت ابن عباس میں اللہ فرماتے ہیں قَدِمَ مُسَيْلِمَةُ الْكَذَّابُ عَلَى عَهْدِرَ سُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يَقُولُ إِنْ جَعَلَ لِى مُحَمَّدَ الْأَمْرَ مِنْ بَعْدِهِ تَبِعْتُهُ وَقَدِ مَهَا فِي بَشَرٍ كَثِيرٍ مِنْ قَوْمِهِ فَاقْبَلَ إِلَيْهِ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَةَ ثَابِتُ ابْنُ قَيْسٍ بْنِ شَمَّاسٍ وَ فِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِطْعَةٌ جَرِيدٍ حَتَّى وَقَفَ عَلَى مُسَيْلَمَةً فِي أَصْحَابِهِ فَقَالَ لَوْ سَأَلْتَنِي هُذِهِ الْقِطْعَةَ مَا أَعْطَيْتُكَهَا وَلَنْ تَعْدُو أَمْرَ اللَّهِ فِيكَ وَلَئِنْ أَدْبَرْتَ لَيَغْفِرَ نَّكَ اللهُ وَإِنِّي لَأَرَاكَ الَّذِي أُرِيتُ فِيهِ مَا رَأَيْتُ وَهُذَا ثَابِتٌ يُجِيبُكَ عَنِّي ثُمَّ انْصَرَفَ عَنْهُ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَسَأَلْتُ عَنْ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّكَ أَرَى الَّذِي أُرِيتُ فِيْهِ مَا رَأَيْتُ فَاخْبَرَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ فِي يَدِي سَوَارَيْنِ مِنْ ذَهَبٍ فَا هَمَّنِي شَأْنُهُمَا فَأُوحِيَ إِلَيَّ فِي الْمَنَامِ أَنْ أَنْفُخَهُمَا فَنَفَخْتُهُمَا فَطَارًا فَأَوَّلْتُهُمَا كَذَّا بَيْنِ يَخْرُ جَانِ بَعْدِى أَحَدُهُمَا الْعَنْسِ وَالآخَرُ مُسَيْلِمَةٌ (بخارى كتاب المغازی باب و قد بنى حنيفة و حديث ثمامة بن اثال) رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں مسلیمہ کذاب آیا اور کہنے لگا کہ اگر محمد اللہ اپنے بعد مجھے حاکم مقرر کر دیں تو میں ان کا متبع ہو جاؤں اور اس وقت وہ اپنے ساتھ اپنی قوم میں سے ایک جماعت کثیر لایا تھا۔ رسول کریم یہ بات سنکر اس کی طرف آئے اور ثابت ابن قیس ابن شماس بھی اللہ آپ پ کے ساتھ تھے اور رسول کریم کے ہاتھ میں کھجور کی ایک شاخ کا ٹکڑا تھا۔ آپ آئے یہاں تک کہ مسیلمہ کے سامنے کھڑے ہو گئے اور وہ اپنے ساتھیوں میں بیٹھا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ اگر تو مجھ تم سے یہ شاخ بھی مانگے تو میں تجھے نہ دوں اور جو کچھ خدا نے تیرے لئے مقدر کیا ہے تو اس سے آگے نہیں بڑھے گا اور اگر تو پیٹھ پھیر کر چلا جائے گا تو اللہ تعالٰی تیری کونچیں کاٹ دے گا اور میں تو تجھے