انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 500 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 500

انوار العلوم جلدا ۵۰۰ سيرة النبي ہاں بعض لوگوں کو خیال ہوتا ہے کہ ہماری بیویاں اور اولاد خود دولتمند ہیں۔ ہمیں ان کے گزارہ کی کچھ فکر نہیں مگر یہاں یہ معاملہ بھی نہ تھا آپ کی بیویوں کی کوئی ایسی جائداد الگ موجود نہ تھی کہ جس سے وہ اپنا گزارہ کر سکیں نہ ہی آپ کی اولاد آسودہ حال تھی کہ جس سے آپ بے فکر ہوں ان کے پاس کوئی جائداد کوئی روپیہ کوئی مال نہ تھا کہ جس پر دنیا سے بے فکر ہو جائیں ایسی صورت میں اگر آپ ان لوگوں کے لئے خود کوئی اندوختہ چھوڑ جاتے تو کسی شریعت کسی قانون انسانیت کے خلاف نہ ہوتا اور دنیا میں کسی انسان کا حق نہ ہو تاکہ وہ آپ کے اس فعل پر اعتراض کرتا لیکن آپ ان جذبات اور خیالات کے ماتحت کام نہیں کرتے تھے جو ایک معمولی آدمی کے دل میں موجزن ہوتے ہیں۔ آپ کے محسوسات اور محرکات ہی اور تھے۔ آپ نے خدا تعالیٰ کی قدرت اور طاقت کو اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا تھا اور اس کے فضلوں کی وسعت کو جانتے تھے۔ آپ کو یقین تھا کہ میں اپنے پیچھے اگر مال چھوڑ کر نہیں جاتا تو کچھ حرج نہیں میری وفات کے بعد میرے پسماندگان کا ایک نگران ہے جس پر کبھی موت نہیں آتی جو کبھی غافل نہیں ہوتا جو اپنے پیاروں کو ان کی مصیبتوں کے وقت کبھی نہیں چھوڑتا جو ان کی ہر ضرورت کو پورا کرنے کے لئے تیار رہتا اور ضرورتوں کے پیدا ہونے سے پہلے ان کے پورا کرنے کے سامان کر دیتا ہے خدا تعالیٰ کے وسیع خزانوں کو دیکھتے ہوئے آپ اس بات کو ایک سیکنڈ کے لئے بھی پسند نہیں کر سکتے تھے کہ اپنے پسماندگان کے لئے خود کوئی سامان کر جائیں خدا پر آپکو تو کل تھا اور اس پر بھروسہ کرتے تھے اور یہ وہ تو کل کا اعلیٰ مقام ہی تھا کہ جس پر قائم ہونے کی وجہ سے دنیا داروں کے خلاف آپ کی توجہ بجائے دنیاوی سامانوں کے آسمانی اسباب پر پڑتی تھی۔ جیسا کہ میں پہلے ثابت کر آیا ہوں رسول کریم کو کسی کام میں بھی دنیا اور اہل مسیلمہ کا دعوی دنیا کی طرف توجہ نہ تھی اور ارضی اسباب کی طرف آپ آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھتے تھے بلکہ ہر کام میں آپ کی نظر خدا تعالیٰ ہی کی طرف لگی رہتی کہ وہی کچھ کرے گا گویا کہ تو کل کا ایک کامل نمونہ تھے جس کی نظیر نہ پہلے انبیاء میں ملتی ہے نہ آپؐ کے بعد آپ کے سے تو کل والا کوئی انسان پیدا ہوا ہے ۔ مسیلمہ کے نام سے سب مسلمان واقف ہیں اس شخص نے رسول کریم ﷺ کے بعد حضرت ابو بکر کی خلافت میں سخت مقابلہ کیا تھا اگر چہ رسول کریم ال کے زمانہ میں ہی یہ شخص نبوت کا دعوی کر بیٹھا تھا مگر مقابلہ اور جنگ حضرت ابو بکر کے لشکر ہی ۔ رہی سے ہوا اور ان ہی افواج قاہرہ نے اس