انوارالعلوم (جلد 1) — Page 488
انوار العلوم جلدا ۲۸۸ سيرة النبي ال رکھ پہنچتا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ اب اس شخص سے جرم تو ہو ہی گیا ہے اور یہ تائب بھی ہے اسے چھوڑ دیا جائے تو اچھا ہے لیکن یہ ایک کمزوری ہے اگر اس جذبہ سے متأثر ہو کر مجرموں کو چھوڑ دیا جائے تو گناہ اور جرائم بہت ہی بڑھ جائیں۔ فطری رحم کے علاوہ جب کسی بڑے آدمی سے جرم ہو تو لوگ عام طور پر نہیں پسند کرتے کہ اسے سزا ملے اور اس کی بڑائی سے متاثر ہو کر چاہتے ہیں کہ اسے کسی طرح چھوڑ دیا جائے بلکہ بڑے دولتمند یا کوئی دنیاوی وجاہت رکھنے والے آدمی تو روپیہ اور اثر خرچ کر کے ایک ایسی جماعت اپنے ساتھ کر لیتے ہیں کہ جو مشکلات کے وقت ان کا ساتھ دیتی ہے اور باوجود قانون کی خلاف ورزی کے اپنے جتھے کی مدد سے اپنے جرائم کے اثر سے بچ جاتے ہیں۔ ان قوموں میں جن کے اخلاق گر جاتے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی غیرت دینی این تومور ہیں اور جن کے افراد میں طرح طرح کی بدیاں آجاتی ہیں ان میں خصوصاً یہ رواج عام ہو جاتا ہے کہ بڑے لوگ قانون کے خلاف عمل کر کے بھی بچ جاتے ہیں اور صرف غرباء ہی سزا پاتے ہیں۔ رسول کریم ال اس بات کے سخت مخالف تھے اور آپ کا جو معاملہ خدا کے ساتھ تھا اور جس طرح آپ تمام بنی نوع انسان کے ساتھ یکساں سلوک کرنا چاہتے تھے اس کے لحاظ سے آپ کبھی پسند نہ کرتے تھے کہ احکام شریعت سے امراء کو مستثنیٰ کر کے غرباء ہی کو اس کا مکلف سمجھا جائے بلکہ آپ باد جود ایک رحیم دل اور ہمدرد طبیعت رکھنے کے ہمیشہ احکام شریعت کے جاری کرنے میں محتاط رہتے اور مجرمین کو سزا سے بچنے نہ دیتے اور جس طرح آپ غرباء کو سزا دیتے امراء بھی اسی طرح احکام شریعت کے ماتحت جکڑے جاتے اور اس معاملہ میں آپ بڑے غیور تھے ۔ حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ أَنَّ امْرَأَةً مِّنْ بَنِي مَخْزُومٍ سَرَقَتْ فَقَالُوا مَنْ يُكَلِّمُ فِيهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَجْتَرِئُ أَحَدً أَنْ يُكَلِّمَهُ فَكَلَّمَهُ أَسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ فَقَالَ إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَ إِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الشَّرِيفُ تَرَكَّوْهُ وَ إِذَا سَرَقَ الضَّعِيفُ قَطَعُوهُ لَوْ كَانَتْ فَاطِمَةٌ لَقَطَعْتُ يَدَهَا ( بخاری کتاب المناقب باب ذکر اسامہ بن زید) بنی مخزوم کی ایک عورت نے چوری کی اس پر لوگوں نے چاہا کہ کون ہے جو رسول کریم سے اس عورت کے معاملہ میں سفارش کرے لیکن کسی نے اس کی جرأت نہ کی (کیونکہ رسول کریم حدود کے قائم کرنے میں بڑے سخت تھے آخر اسامہ بن زید بھی اللہ نے رسول کریم سے ذکر کیا مگر آپ نے لو