انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 487 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 487

انوار العلوم جلد ا ۴۸۷ سيرة النبي ال کیا یا رسول اللہ یہ معافی اللہ کی طرف سے ہوئی یا آپ کی طرف سے ۔ آپ نے فرمایا نہیں اللہ کی طرف سے ہوئی (اس نے خود معافی کا حکم اتارا۔ آنحضرت ا جب خوش ہوتے تو آپ کا چہرہ چاند کی طرح روشن ہو جا تا ہم لوگ اس کو پہچان لیتے ۔ اس واقعہ سے معلوم ہو سکتا ہے کہ رسول کریم کی فطرت کیسی پاک اور مطہر تھی اور کسی طرح آپ ہر رنگ میں کامل ہی کامل تھے ۔ بے شک بعض آدمی ہوتے ہیں جو غیرت دینی رکھتے ہیں مگر اکثر دیکھا گیا ہے کہ بعض تو دشمنوں کے مقابلہ میں اظہار غیرت کر دیتے ہیں مگر دوستوں کے معاملہ میں اظہار غیرت نہیں کر سکتے اور بعض دوستوں پر اظہار غیرت کر دیتے ہیں مگر دشمنوں کے سامنے دب جاتے ہیں ۔ مگر رسول کریم ال ایسے کامل انسان تھے کہ خواہ دین کی ہتک یا احکام الہیہ سے بے پرواہی و پرواہی دوست سے ہو یا دشمن سے برداشت نہ کر سکتے تھے اور فورا اور فوراً اس کا ازالہ کرنا چاہتے ۔ ادھر تو طبیعت کی نرمی کا یہ حال تھا کہ گالیوں پر گالیاں ملتی ہیں اور تکلیفیں دی جاتی ہیں مگر آپ پر واہ بھی نہیں کرتے اور ادھر خدا کے معاملہ میں غیرت کا یہ حال تھا کہ رت کا یہ حال تھا کہ جب ابو سفیان آپ کی ہتک کرتا رہا تو کچھ پرواہ نہ کی۔ مگر جب شرک کے کلمات منہ پر لایا تو فرمایا اسے جواب دو۔ یہ تو دشمن کا حال تھا دوستوں کے معاملہ میں بھی ایسے ہی سخت تھے ۔ منافق جنگ سے پیچھے رہ گئے تو کچھ پر راہ نہ کی ایک مؤمن نے جو اس حکم الہی کے بجالانے میں سستی کی تو آپ نے کس قدر غیرت سے کام لیا۔ اور باوجود اس کے محبت کا یہ عالم تھا کہ ان ایام ناراضگی میں بھی کعب بن مالک یعنی اللہ کو کنکھیوں سے دیکھتے رہتے۔ اخلاص بالله - قیام حدود آنحضرت ا کی غیرت دینی جس وضاحت سے مذکورہ بالا واقعات سے ثابت ہوتی ہے اس پر کچھ اور زیادہ لکھنے کی حاجت نہیں ۔ اب میں آپ کے ایک اور خلق پر روشنی ڈالنا چاہتا ہوں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا معاملہ خدا تعالیٰ سے کیسا پاک تھا اور کس طرح آپ کو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا خیال رہتا تھا۔ خو انسان فطرتا کسی کی مصیبت کو دیکھ کر رحم کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ بہت سے لوگ جب کسی مجرم کو سزا ملتی دیکھتے ہیں تو بار جو ر اس علم کے کہ اس سے سخت جرائم سرزد ہوئے ہیں ان کے دل کو