انوارالعلوم (جلد 1) — Page 463
انوار العلوم جلدا ۶۳ سيرة النبي ال احسانات کی کوئی حد نہیں ہر ایک لمحہ میں اس کے فضلوں کی بارش ہم پر ہو رہی ہے۔ کمزور سے کمزور ضعیف سے ضعیف حالت سے اس نے ہمیں اس حد کو پہنچایا ہے اور عقل و خرد بخش کر کل مخلوقات پر فضیلت بخشی ہے اس لئے اگر اس کے ساتھ ہمارے تعلقات درست نہ ہوں۔ اگر ہمارے اخلاق تعلق باللہ میں ادنی ہوں اور اس کے احسانات کو ہم فراموش کر دیں تو ہم سے زیادہ کوئی ذلیل نہیں۔ خالق کے بعد ہمارا تعلق مخلوق سے ہے کہ ان میں بھی کوئی ہمارا محسن ہے ، کوئی ہمارا معلم ہے کوئی ہمار ا مہربان ہے کوئی درد خواہ ہے کوئی ہمارے آرام و آسائش میں کوشاں ہے ، کوئی ہماری محبت اور توجہ کا محتاج ہے کوئی اپنی کمزوریوں اور اپنی گری ہوئی حالت اور اپنے ہم سفروں سے پیچھے رہ جانے کی وجہ سے ہم سے نصرت و مدد کا متمنی ہے۔ غرضیکہ ہزاروں طریق سے ہزاروں آدمی ہم سے متعلق ہیں اور اگر ہمارے معاملات ان سے درست نہ ہوں اگر ان سے بد خلقی سے پیش آئیں تب بھی دنیا کا امن و امان جاتا رہتا ہے اور فساد و بغاوت میں ترقی ہوتی ہے پس اگر ہمارے اخلاق مخلوق سے درست نہ ہوں تو ہم ایک ڈاکو کی طرح ہیں جو دنیا سے اس کے امن و آرام کا متاع لوٹتا اور غارت کرتا ہے۔ تیرا تعلق ہمارا خود اپنے نفس سے ہے کہ یہ بھی ہماری بہت سی تو جہات کا محتاج ہے اور جس طرح ہمارا خالق سے منہ موڑنا یا مخلوق سے بد اخلاقی سے پیش آنا نہایت مضر اور مخرب امن ہے اس طرح ہمارا اپنے نفس سے بدسلوکی کرنا اور اخلاق رذیلہ سے پیش آنا نہایت خطرناک اور باعث فساد ہے۔ پس وہی انسان کامل ہو سکتا ہے کہ جو ان تینوں معاملات میں کامل ہو اور ان اصناف میں سے ایک صنف میں بھی کمزوری نہ دکھلائے ۔ اگر ان تینوں اقسام اخلاق کو مد نظر رکھ کر دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ اکثر انسان جو اخلاق میں کامل سمجھے جاتے ہیں بہت سی کمزوریاں رکھتے ہیں۔ اور اگر ایک قسم کے اخلاق میں انہیں کمال حاصل ہے تو دوسری قسم میں انہیں کوئی دسترس نہیں ۔ ہاں اللہ تعالیٰ کے پیاروں اور پاک بندوں کا گروہ ہی نکلے گا کہ جو ان تینوں اقسام اخلاق میں کمال رکھتا ہے اور کسی خوبی کو اس نے ہاتھ سے نہیں جانے دیا ۔ اور جب آپ رسول کریم اس کے اخلا اخلاق کا مطالعہ غور سے کریں گے تو آپ کو معلوم ہو گا کہ وہ تمام صاحب کمال لوگوں کے سردار تھے اور باوجود اس کے کہ دنیا میں بہت سے صاحب کمال لوگ گزرے لیکن جس رنگ میں آپ رنگین تھے اس کے سامنے سب کے رنگ پھیکے پڑ جاتے ہیں اور جن خوبیوں کے آپ جامع تھے ان کا عشر عشیر بھی کسی اور انسان میں نہیں پایا جاتا