انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 462 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 462

انوار العلوم جلدا ۴۶۲ سيرة النبي بے تکلفی سے اور بغیر پہلے غور کے دی ہے کہ موافق تو الگ رہے مخالف کو بھی اس کے ماننے سے انکار نہیں ہونا چاہئے ۔ اس حدیث میں جس میں حضرت خدیجہ کی گواہی کا ذکر ہے آگے چل کر لکھا ہے کہ حضرت خدیجہ آنحضرت ا کو اپنے ساتھ اپنے بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں اور انہیں کل حال سنایا انہوں نے سن کر کہا کہ یہ فرشتہ جو آپ پر نازل ہوا ہے یہ وہی ہے جسے اللہ تعالٰی نے حضرت موسی پر نازل فرمایا تھا اور فرمایا کہ يَا لَيْتَنِي فِيهَا جَذَعًا لَيْتَنِي أَكُونُ حَيَّا إِذْ يُخْرِجُكَ قَوْمُكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَ مُخْرِ جِتَ هُمْ ( بخاری جلد اول باب كيف كان بدء الوحی ، یعنی اے کاش کہ میں اس وقت جوان و توانا ہوں۔ اے کاش کہ میں اس وقت زندہ ہوں جبکہ تجھے تیری قوم نکال دے گی رسول اللہ نے سنکر فرمایا کیا وہ مجھے نکال دیں گے؟ اس گفتگو سے اور خصوصاً رسول کریم ﷺ کے اس قول سے کہ ”کیا مجھے میری قوم نکال دے گی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا اندر کیسا صاف تھا۔ اور جب آپ نے ورقہ بن نوفل سے یہ بات سنی کہ آپ کو اہل مکہ نکال دیں گے تو آپ کو اس سے سخت حیرت ہوئی کیونکہ آپ اپنے نفس میں جانتے تھے کہ مجھ میں کچھ عیب نہیں۔ اور اگر آپ ذرہ بھر بھی اپنی طبیعت میں تیزی پاتے تو اس قدر تعجب کا اظہار نہ فرماتے لیکن ورقہ کی بات سنکر اس پاک فطرت انسان کے منہ سے بے اختیار نکل گیا کہ ہیں کیا میری قوم مجھے نکال دے گی۔ اسے کیا معلوم تھا کہ بعض خبیث الفطرت ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جو ہر نور کی مخالفت کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ وہ تو اس بات پر حیران تھا کہ اس پاک زندگی اور اس درد مند دل کے باوجود میری قوم مجھے کیوں کر نکال دے گی۔ ایک کرنے بعد اب میں اخلاق حمیدہ کی تفصیل اخلاق پر ایک مجملاً بحث کرنے کے بعد اب میں اللہ تعالی کے فضل سے آنحضرت ا کے اخلاق کا تفصیلاً بیان کرنا چاہتا ہوں لیکن رہے پیشتر اس کے کہ میں فردا فردا آپ کے اخلاق کا بیان کروں ان کی تقسیم کر دینا ضروری سمجھتا ہوں تاکہ اس تقسیم کو مد نظر رکھ کر ناظرین پر یہ بات پوری طرح عیاں ہو جاوے کہ تمام کے تمام شعبہ ہائے اخلاق میں آپ کمال کو پہنچ گئے تھے اور ہر حصہ زندگی میں آپ کے اخلاق اپنا جلوہ دکھار تھے اور کوئی صنف خوبی کی باقی نہ رہی تھی جس میں آپ نے دوسرے تمام انسانوں کو اپنے پیچھے نہیں چھوڑ دیا۔ میں نے جہاں تک غور کیا ہے انسان کے تعلقات تین طرح کے ہوتے ہیں۔ سب سے پہلا تعلق تو اسکا خدا سے ہوتا ہے کیونکہ وہ اس کا خالق و رازق ہے۔ اس کے فضل کے بغیر اس کا ایک دم آرام سے نہیں گزر سکتا بلکہ آرام تو الگ رہا اس کی زندگی ہی محال ہے۔ اس کے