انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 404 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 404

انوار العلوم جلدا ۲۰ خدا کے فرستادہ پر ایمان لاؤ کے تم انتظار میں ہو وہ آپ کا یعنی یوحنا اس کی خوبو پر آیا ہے دیکھو متی باب آیت ۱۳-۱۴- قرآن مجید کی آیت استخلاف پر تدبر کرنے سے بھی میں واضح ہوتا ہے کہ مسیح دوبارہ بروزی رنگ میں نازل ہو گا۔ کیونکہ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ (النور (۵۷) مطلب - ضرور خلیفہ بنائے گا امت محمدیہ کے کامل الایمان عمل صالح کرنے والوں کو جیسا کہ ان سے پہلے موسوی امت میں خلفاء بنائے ہیں۔ بتا دیا کہ محمدی سلسلہ خلفاء موسوی سلسلہ خلفاء کی مانند ہے ۔ مشبہ مشبہ بہ ایک نہیں ہوتے اس لئے محمدی مسیح اور ہے۔ موسوی مسیح اور ایک ہی نام کا اطلاق سورۃ تحریم کے آخر کے مطابق نایت مشابہت سے ہے ۔ مسیح بن مریم کا حلیہ سرخ رنگ گھونگھریالے بال اور آنے والے مسیح کا حلیہ گندمی رنگ سیدھے بال جیسا کہ حدیث کی کتابوں سے ظاہر ہے۔ دونوں کو علیحدہ علیحدہ ثابت کرتا ہے۔ یہاں تک تو موعود کی کیفیت نزول سے بحث تھی۔ اور نزول آسمان سے اترنے کو نہیں کہتے چنانچہ نبی کریم ا کے بارے میں فرمایا قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ إِلَيْكُمْ ذِكْرًا رَسُولاً (الطلاق : ۱۰) (اتارا تمہاری طرف یاد دلانے والا رسول) اب باقی یہ سوال رہ گیا ہے کہ اس امت محمدیہ سے جو مسیح و مهدی آنے والا تھا وہ حضرت مرزاغلام احمد صاحب ہی کیونکر ہیں ؟ سواس کے لئے دیکھنا چاہئے کہ یہ تو متفق اللفظ مان لیا گیا ہے کہ یہی زمانہ ظہور مہدی کا ہے جیسا کہ اس زمانہ کے فتن سے ظاہر ہے اور اسلام کا ضعف دلالت کرتا ہے۔ اور إِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى رَأْسِ كُلِّ مِائَةِ سَنَةٍ مَنْ يُجَدِّدُ لَهَا دِيْنَهَا (ابو داود كتاب الملاحم) کی حدیث صحیح اور اس کے مطابق ہر صدی کے سر پر مجدد کا ظہور بھی اس کا مؤید ہے ۔ اس صدا کا مؤید ہے ۔ اس صدی میں چونکہ صلیب پرستی کا زور ہے اس لئے ضرور تھا کہ چودھویں صدی کا عظیم الشان مجد داپنے کام کے لحاظ سے کا سر الصلیب کا لقب پائے ۔ اور مسیح و مہدی کہلائے۔ درخت اپنے پھلوں سے پہچانا جاتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ مرزاغلام احمد قادیانی مبعوث ہو کر اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے یا نہیں۔ اور آپ نے ان باتوں کا بیج بو دیا یا نہیں جن پر اسلام کی ترقی کا دار ومدار اور دلائل و براہین سے کسر صلیب کا انحصار ہے۔ اے حضرات ! آپ انصاف سے دیکھئے اس وقت تمام دنیا اور پھر ملک ہندوستان میں کونسی جماعت ہے جو حقیقی معنوں میں جماعت کہلانے کی مستحق ہے اور جو اپنے تمام اقوال وافعال کو ایک امام کے ماتحت عملی طور پر رکھتی ہے اور کون سی وہ جماعت ہے جس میں وحدت جو تمام کامیابیوں کی جڑ ہے موجود ہے اور جو اپنے مال و جان سے قرآن مجید اور نبی اکرم ا کی تقدیس و تظهیر اور ان کے عظمت و جلال کو قلوب میں رائج کرنے کے لئے ہر وقت مستعد ہے ۔ بلا خوف تردید اس