انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 403 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 403

こ انوار العلوم جلدا بسم الله الرحمن الرحیم ۳۰۳ خدا کے فرستادہ پر ایمان لاؤ محمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم خدا کے فرستادہ پر ایمان لاؤ وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ (آل عمران : ۱۴۵) (محمد) محمد ایک رسول ہی ہیں ان سے پہلے سب رسول وفات پاچکے) قرآن مجید میں آیت موجود ہے ۔ خلت کے معنی بھی قرآن مجید ہی سے حل ہوتے ہیں۔ جیسا کہ اس کے آگے فرمایا فَإِنْ مَّاتَ أَوْ قُتِلَ - ( آل عمران: ۱۴۵) یعنی خلا کی دو ہی صورتیں ہیں۔ موت یا قتل۔ تیسری صورت کے لئے الی صلہ آتا ہے پھر معلوم نہیں عیسیٰ علیہ السلام کی وفات میں کون سا شبہ باقی رہ جاتا ہے جبکہ آنحضرت ا نے اپنی رؤیت بیان فرمائی کہ شب معراج ان کو فوت شدہ انبیاء کی ارواح کے ساتھ دیکھا اور حضرت ابو بکر بنی اللہ نے وفات النبی کے روز یہی آیت پڑھ کر نبی کریم ﷺ کی وفات پر استدلال فرمایا جو کبھی کامل نہیں ہو سکتا جب تک کہ اگلے تمام انبیاء کی وفات کو نہ مان لیا جاوے ۔ پھر نہ تو فِيهَا تَحْيَوْنَ وَ فِيهَا تَمُوتُونَ (الاعراف : (۲۶) اسی زمین میں زندہ رہتے زندہ رہتے ہو اور اسی زمین میں مرو گے) ان کو آسمان پر جانے دیتا ہے اور نہ رَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ (النساء : ۱۵۹) سے ان کی رفعت جسمانی ثابت ہوتی ہے کیونکہ یہ یہود کے جواب میں فرمایا جو انہیں مقتول بالصلیب کر کے ملعون بنانا چاہتے تھے مگر خدا نے جیسا کہ اس کا وعدہ تھا کہ إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَ رَافِعُكَ إِلَى - ( آل عمران : ۵۶) ان کو وفات دے کر وہ رفع دیا جو اپنے تمام پیاروں کو دیا کرتا ہے۔ پھر فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ (الزمر: (۴۳) سے اللہ تعالیٰ نے اپنا یہ کلیہ بھی فرما دیا کہ ارواح موت کے بعد روکی جاتی ہیں اور مردہ دوبارہ زندہ ہو کر اس دنیا میں نہیں آتا انهم إِلَيْهِمْ لَا يَرْجِعُونَ (ئیس : ۳۲) تو مسیح جو وفات پاچکا ہے وہ کس طرح آسکتا ہے ۔ الا اسی را الا اسی رنگ میں جیسے الیاس یوحنا کے رنگ میں آیا اور حضرت عیسیٰ نے تمام یہود کو اپنا یہ فیصلہ سنا دیا کہ جس ایلیا