انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 394 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 394

انوار العلوم جلد ا ۳۹۴ جواب اشتهار غلام سرور کانپوری حافظ محمد یوسف صاحب - مشکوۃ میں موجود ہے ابن جوزی اس کے راوی ہیں مشکوۃ آپ کی جماعت میں مسلم ہے۔ آپ دفع الوقتی کرتے ہیں۔ اس کا جواب میں اپنے نوٹ میں پہلے دے چکا ہوں کہ ابن جوزی جو یہ حدیث نقل کرتے ہیں رسول اللہ ا کے چار پانچ سو سال بعد ہوئے ہیں۔ اور نہ تو انہوں نے یہ بتایا ہے کہ یہ حدیث انہوں نے کسی کتاب میں دیکھی ہے اور نہ یہ لکھا ہے کہ ہم نے کس سے سنی پھر ہم اس حدیث کو کیونکر مان سکتے ہیں علاوہ ازیں ابن جوزی وہ شخص ہے کہ جس نے شیخ عبد القادر جیلانی علیہ الرحمة جیسے پاک اور مقدس انسان پر کچھ فتوی دیا ہے اور ایک کتاب تلبیس ابلیس لکھ کر اپنی محجوبانہ حالت کا ثبوت دیا ہے ۔ جو شخص ایسا غیر محتاط ہو اور ایسے ایسے آئمہ دین کی شان میں اس قسم کے الفاظ استعمال کرے ہمیں تو اگر وہ سند کے ساتھ بھی کوئی بات بیان کرے تو اس کے ماننے میں ایک حد تک تامل ہے) حافظ روشن علی صاحب - ابن جوزی ایک رادی چوتھی پانچویں صدی کا آدمی رسول الله ال تک حدیث کو کس طرح پہنچا سکتا ہے۔ مشکوٰۃ ہمارے ہا ہ ہمارے ہاں مسلم نہیں۔ آپ کو ہماری جماعت کا علم نہیں۔ اس پر گفتگو ختم ہو گئی۔ اس پر حافظ روشن علی صاحب نے فرمایا کہ باوجود اس کے کہ یہ حدیث ثابت نہیں مگر میں آپ کی خاطر اس کے معنی کر دیتا ہوں حدیث میں لفظ ہے يُنْزِلُ یعنی آئے گا چنانچہ مرزا صاحب بھی آئے ہیں۔ دو سر الفظ ہے یتز و محج جس کے معنی ہیں نکاح کرے گا۔ مرزا صاحب نے نکاح کیا ہے۔ تیسرا لفظ ہے يُولَدُ لۂ جس کے معنی ہیں اس کے اولاد ہو گی مرزا صاحب صاحب اولاد ہیں ۔ حافظ محمد یوسف صاحب - اجی یہ باتیں تو ہر ایک صاحب اولاد پر صادق آتی ہیں۔ مسیح کی خصوصیت کیا ہے امتیازی نشان تو وہی چوتھا ہے کہ مسیح علیہ السلام فوت ہو جاویں گے اور رسول اللہ اللہ کی قبر میں دفن کئے جاویں گے۔ حافظ روشن علی صاحب ۔ اس کا کیا ثبوت ہے کہ اس حدیث میں رسول اللہ ال مسیح کی خصوصیتیں بیان کر رہے ہیں (کیونکہ اگر خصوصیتیں ہوتیں تو پہلی تین باتیں کیوں بیان فرماتے اگر یہ مانا جائے کہ اس حدیث میں خصوصیتیں بیان ہو رہی ہیں۔ تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے سوا اور نہ کوئی دنیا میں آتا ہے اور نہ اس کا نکاح ہوتا ہے اور نہ اس کے بچے پیدا ہوتے ہیں۔ اگر ان تینوں باتوں میں حضرت مسیح کے علاوہ دوسرے لوگ شامل ہو سکتے