انوارالعلوم (جلد 1) — Page 393
وار العلوم جلدا ۳۹۳ جواب اشتہار غلام سرور کانپوری آج کل کوئی شخص اٹھ کر کے کہ رسول اللہ ا نے فلاں بات یوں فرمائی تھی تو کیا ہمارا فرض ہے کہ بغیر کسی ثبوت کے اس کی بات ہم مان لیں یا تو وہ کسی کتاب کا حوالہ دے کہ میں نے یہ حدیث فلاں کتاب میں پڑھی یا بتائے کہ میں نے یہ حدیث فلاں معتبر آدمی سے سنی اس نے آگے فلاں سے سنی اور اسی طرح رسول الله الا تک پہنچائے ۔ اس بات کا جواب حافظ محمد یوسف نے یہ دیا کہ مشکوۃ میں موجود ہے ( عجیب جواب ہے علماء نے صحاح ستہ تک کی بعض احادیث پر جرح کی ہے اور حافظ صاحب مشکوٰۃ کی ہر ایک حدیث کو حجت قرار دیتے ہیں کہ جس میں نہ صرف صحاح ستہ بلکہ دوسری احادیث کی کتب کے علاوہ صحابہ اور تابعین اور تبع تابعین تک کے اقوال کو ہر قسم کی کتب سے نقل کیا گیا ہے۔ اور خود مصنف نے احادیث کے تین باب باندھے ہیں۔ اور تیسرے باب کو پہلے دو بابوں سے بہت ادنی درجہ کا قرار دیا ہے۔ اور یہ حدیث جس کے راویوں تک کا پتہ نہیں تیسرے باب کی ہی حدیث ہے۔ اور دوم حدیث کے اماموں کے مقرر کردہ قواعد کے لحاظ سے بھی ثابت نہیں ہوتی تو ہم پر کب حجت ہو سکتی ہے) حافظ روشن علی صاحب - مشکوۃ میں موجود ہونے سے ہم پر حجت نہیں ہو سکتی ۔ ہمارے یہاں مشکوۃ مسلم نہیں ہے ( جب تک اس کی کوئی حدیث آئمہ محدثین کے مقرر کردہ قواعد کے ماتحت ثابت نہ ہو ہم اس کے ماننے کے پابند نہیں ) سند کے ساتھ اس حدیث کو رسول اللہ اللی تک پہنچائیں تا اس کے راویوں پر نگاہ کی جائے کہ کس پائے کے ہیں۔ حافظ محمد یوسف صاحب آپ کے ہاں کیسی حدیث مسلم ہوا کرتی ہے۔ حافظ روشن علی صاحب اگر عقائد کے متعلق ہو تو متواتر یا مشہور حدیث اور اگر اعمال کے متعلق ہو تو ایسی احاد حدیث بھی ہم مان لیتے ہیں کہ جو قرآن کریم اور متواتر حدیث کے برخلاف نہ ہو۔ ہے حافظ محمد یوسف صاحب - جو حدیث احکام پر مشتمل نہ ہو اس کے متعلق کیا اعتقاد ہے ۔ حافظ روشن علی صاحب اگر وہ قرآن اور حدیث متواتر مشہور کے خلاف نہ ہو تو مسلم حافظ محمد یوسف صاحب۔ یہ حدیث آپ کو کیوں مسلم نہیں ۔ حافظ روشن علی صاحب ۔ اس لئے کہ یہ حدیث نہ متواتر ہے نہ مشہور ہے اور نہ احاد اس کی سند تک موجود نہیں۔