انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 381 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 381

انوار العلوم جلدا ۳۸۱ مدارج تقوی حضرت صاحب کے نام آئے ایک کے کو پن پر لکھا تھا کہ یہ پندرہ روپیہ ارسال ہیں۔ ایک روپیہ لنگر کے لئے اور باقی آپ خدا کے لئے اپنے نفس پر خرچ کریں اور مجھ پر احسان فرمائیں۔ پھر جب زلزلہ آیا اور حضرت اقدس باہر باغ میں تشریف لے گئے اور مہمانوں کی زیادہ آمدو رفت وغیرہ کی وجوہات سے لنگر کا خرچ : ر کا خرچ بڑھ گیا۔ تو آپ نے ارادہ فرمایا کہ قرض لے لیں فرماتے ہیں میں اسی خیال میں آ رہا تھا کہ ایک شخص ملا جس نے پھٹے پرانے کپڑے پہنے ہوئے تھے اور اس نے ایک پوٹلی میرے ہاتھ میں دیدی اور پھر الگ ہو گیا۔ اس کی حالت سے میں ہرگز نہ سمجھ سکا کہ اس میں کوئی قیمتی چیز ہو گی۔ لیکن جب گھر آکر دیکھا تو دو سو روپیہ تھا۔ حضرت صاحب فرماتے ہیں کہ اس کی حالت سے ایسا ظاہر ہوتا تھا کہ وہ اپنی ساری عمر کا اندوختہ لے آیا۔ پھر اس نے اپنے لئے یہ بھی پسند نہ کیا کہ میں پہچانا جاؤں۔ یہ شاکر کا مقام ہے ۔ متقی محسن ایک اور بندہ ہے اس کا نام حسن ہے۔ وہ شاکر سے ایک درجہ آگے بڑھتا ہے۔ محسن کو جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو معاً اسے خیال آتا ہے کہ میرے اور بھی اور بھائی بھی ہیں ان کو بھی بڑی تکلیف ہوئی ہوگی اور میں بڑا غافل ہوں کہ ان کی خبر نہیں لیتا۔ پس وہ جب إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُوْنَ پڑھتا ہے تو اس کے یہ معنی لیتا ہے کہ ہم سب لوگ خدا کے بندے ہیں یہ مصیبت مجھ ہی پر نہیں آئی بلکہ اور بھی خدا کے بندے ہیں۔ پس وہ ان کی ہمدردی کے لئے اٹھتا ہے۔ اور کمر ہمت چست کر کے ایک ایک کی غم خواری میں کوشش کرتا ہے۔ جب اس کا کوئی عزیز مرتا ہے تو اسے دوسرے لوگوں کی تکلیف کا غایت درجہ احساس ہونے لگتا ہے اور وہ کہتا ہے میرے بھائیوں میں سے جس کا کوئی عزیز مرا ہے اسے بھی بہت رکھ پہنچا ہو گا۔ پس وہ ہر طرح سے ان کی نصرت کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔ محسن صرف آپ ہی صبر نہیں کرتا اور نہ صرف خدا کے حضور موجودہ نعمتوں پر شکر بجالاتا ہے بلکہ وہ دوسروں سے بھی ہمدردی کرتا ہے۔ حضرت صاحب کا ایک واقعہ یاد آگیا۔ گو ما موروں اور مرسلوں کا درجہ محسنوں سے بہت بڑھ کر ہے۔ مگر اس واقعہ سے محسن کا مقام ظاہر ہو جائے گا۔ مبارک احمد جب بیمار پڑا تو آپ کی محویت کا یہ عالم تھا کہ گویا اور کوئی فکر ہی نہیں۔ اپنے ہاتھ سے اس کو دوائی پلاتے اور دن کو آرام تو در کنار کئی راتیں جاگتے گزار دیں۔ مگر جونہی اس کی جان نکلی آپ نے قلم دوات منگوائی اور لوگوں کو خط لکھنے شروع کر دیئے کہ اس ابتلاء میں صبر و شکر سے کام لو۔ بجائے اس کے کہ جس کا بیٹا مرادہ خود صبر کی تلقین کا محتاج ہو تا یا شکر کرنا کافی سمجھتا اسے دوسروں کی فکر پڑ گئی۔ اور اپنا حال یہ ہے کہ خوش ہو رہے ہیں کہ خدا تعالیٰ