انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 380 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 380

انوار العلوم جلدا ۳۸۰ مدارج تقوی بڑے مزے سے کھائی۔ یہ حالت دیکھ کر آقا کو شوق ہوا کہ میں بھی خربوزہ کھاؤں۔ کیونکہ بڑا مزیدار معلوم ہوتا ہے۔ جب اس نے چکھا تو معلوم ہو ا سخت کڑوا اور بد مزہ ہے۔ اس نے حضرت لقمان سے پوچھا کہ یہ خربوزہ تو سخت کڑوا ہے۔ آپ نے مجھے بتایا کیوں نہیں۔ میں اس خیال سے کہ آپ کو پسند ہے بار بار پھانکیں دیتا رہا۔ حضرت لقمان نے جواب دیا کہ اتنی مدت آپ کے ہاتھ سے میٹھی اور خوشگوار چیزیں کھاتا رہا ہوں۔ میں بڑا ہی ناشکر گزار ہو تا کہ جس ہاتھ سے اس قدر میٹھی چیزیں کھائیں اس سے ایک کڑوی ملنے پر ناک بھوں چڑھاتا۔ پس اسی طرح شاکر متقی کہتا ہے اللہ کے مجھ پر ہزاروں احسان ہیں اگر ایک مصیبت بھی آگئی تو کیا ہوا یہ بھی شکر کا مقام ہے۔ گویا شاکر کو تکلیف کے وقت اللہ کے احسان یاد آنے لگتے ہیں۔ پوچھا دوسرا قصہ نبی کریم ا کے وقت کا ہے ۔ احد کی لڑائی میں یہ خبر اڑ گئی کہ حضرت نبی کریم ا شہید ہو گئے۔ میدان جنگ میں تو اس غلط فہمی کی تردید ہو گئی لیکن دوسرے لوگوں میں یہ خبر بھی پھیل رہی تھی۔ جب لشکر اسلام جب لشکر اسلام واپس لوٹا تو ایک صحابیہ دیوانہ وار بڑھی اور پو کہ رسول اللہ ا کا کیا حال ہے ؟ جس شخص سے سوال کیا وہ چونکہ جانتا تھا کہ آپ بفضل الہی بخیریت ہیں اس لئے اسے تو کچھ فکر نہ تھی اس نے اس سوال کی طرف توجہ نہ کی اور جواب میں اس عورت سے کہا کہ تمہارا خاوند مارا گیا۔ مگر وہ نبی اللہ کی محبت میں متوالی ہو رہی تھی۔ اس نے پھر یہ سوال کیا۔ رسول اللہ کا کیا حال ہے؟۔ جواب ملا۔ تیرا باپ مارا گیا۔ اس نے کہا مجھے بتاؤ کہ رسول الله الله تو بخیر و عافیت ہیں ؟ جواب ملا تیرا بھائی بھی مارا گیا۔ اس پر پھر وہ بولی کہ مجھے رسول اللہ اس کا حال بتاؤ - جواب دینے والے نے کہا کہ وہ ہر طرح سلامت ہیں۔ مگر اسے اس پر بھی تسلی نہ ہوئی اور اس نے کہا مجھے دکھاؤ وہ کہاں ہیں۔ اتنے میں رسول اللہ اللہ بھی آگئے۔ اس عورت نے کہا کہ جب تو زندہ ہے تو ہر مصیبت میرے لئے آسان ہے۔ میرے دوستو یہ شاکر صحابیہ تھی۔ دیکھو رسول اللہ کے مقابلہ میں باپ بیٹا اس کی نگاہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتے ۔ کیا اس زمانے میں بھی کوئی ایسی مؤمنہ عورت ہے؟ عورت تو درکنار کوئی ایسا مرد بھی تم میں موجود ہے ؟ غرض شاکر وہ ہے جو فرض ادا کرنے پر پھولتا نہیں ۔ بلکہ وہ خدا کے حضور سجدے میں گر جاتا ہے۔ چندہ دینے والوں میں سے بعض تو ایسے ہیں جو چندہ دے کر صد را انجمن یا خلیفہ المسیح پر پر احسان کرتے ہیں بعض ایسے ہیں جو کہتے ہیں فرض ادا ہو گیا۔ مگر ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں ہم پر خدا کا انسان ہے کہ اس نے ہم سے یہ خدمت لی مجھے اس زمانے کا ایک واقعہ یاد ہے کہ منی آرڈروں میں سے جو