انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 12 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 12

انوار العلوم جلد ) ١٢ چشمه توحید والا قرار دیتا ہوں۔ اب دیکھنا چاہئے کہ دنیا میں کون سا انسان تابعداری کرانے کے قابل ہوتا ہے۔ وہی جو عقلمند ہو۔ اور وہ جو کہ بیوقوف اور جاہل مطلق ہو وہ اس قابل نہیں ہوتا کہ اس کی فرماں برداری کی جاوے۔ و کا کے خیال موجب اور دینی لوگوں کے ایمان کے مطابق ایک کفر و شرک کے نتائج کا بیان ہپس اس جگہ خدا تعالی فرماتا ہے کہ لقمان تو دنیاوی لوگوں حکمت والا آدمی تھا۔ پس ایسے آدمی کی بات تو بڑی وزن دار ہے۔ اور چاہئے کہ دنیا اس کو قبول کرے کیوں کہ ہوا جو وہ اہل الرائے۔ اب جو بات کہ لقمان کہتا ہے وہ آگے بیان ہو گی۔ پھر خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ حکمت کا نتیجہ ہونا چاہئے کہ خدا کا شکر کیا جاوے تاکہ وہ خدا اپنے پہلے انعامات سے بھی بڑھ کر اس پر انعامات کرے۔ اور جو شکر کرے وہ تو انسان کی اپنی جان کے لئے بھی مفید ہوتا ہے ۔ کیوں کہ انسان کے شکر کرنے سے خدا تعالیٰ کا تو کچھ بڑھ نہیں جارے گا خدا تعالیٰ کی صفات میں نہ طاقت میں کوئی ترقی ہو گی بلکہ الٹا شکر کرنے والے کو فائدہ پہنچے گا۔ پس باوجود ان باتوں کے ہوتے ہوئے کفر کرے تو خداتعالیٰ کو اس کی کیا پرواہ ہے ۔ کیا اس کے کفر سے خدا میں کسی قسم کی کمی واقع ہو جائے گی ؟ اور اس طرح وہ شخص اپنا ہی نقصان کرے گا۔ دیکھو کہ آدم کے زمانہ سے لے کر آج تک جنہوں نے شکر کیا وہ بڑھے اور پھولے اور پھلے ۔ مگر جنہوں نے کفر کیا وہ ہمیشہ تباہ ہی ہوئے۔ نوح علیہ السلام اور ایسا ہی لوط علیہ السلام نے شکر کیا۔ وہ ترقی پاگئے خدا کے مقبول ہوئے۔ ان کی قوم نے کفر کیا وہ تباہ ہو گئیں اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام سے عذاب کے وقت وعدہ کیا تھا کہ جو تیرے تعلق والے ہیں میں ان کو بچاؤں گا۔ جب طوفان آیا تو ایک بیٹا لگا ڈو ہے ۔ حضرت نوح علیہ السلام نے آہ و زاری کی کہ اے خدا یہ تو میرا بیٹا ہے ۔ حکم ہوا کہ خاموش کہ یہ تیرا بیٹا نہیں۔ اگر تیرا بیٹا ہوتا تو تیرا ساتھ دیتا اور مجھ پر ایمان لاتا۔ جب تو نے میرے ساتھ خالص تعلق پیدا کیا اور شرک سے بکلی پر ہیز تو جو لوگ مجھ سے محبت کرتے ہیں وہی لوگ تیرے تعلق والے ہیں۔ پس اے احمدی قوم ! خدا ہمارا رشتہ دار نہیں۔ شرک سے پر ہیز کرو اور احمدیت کی حقیقت عبادت کرو تا کہ خدا تمہارا نگہبان ہو جائے۔ دیکھو کہ خدا نے نوح علیہ السلام کے بیٹے تک کی پرواہ نہیں کی۔ پس اس بات سے خوش ہونا کہ احمدی ہیں نادانی ہے۔ بلکہ ایسے کام کرو کہ احمدی ہونے کے لائق ثابت ہو اور اسی طرح لوٹ کی بستی کا حال دیکھ لو کہ کس طرح ہو گئی کہ کفر کرتی تھی اور حضرت لوط جو شکر کرنے والے بندے تھے بچ گئے ۔ یہاں حضرت لوط