انوارالعلوم (جلد 1) — Page 377
انوار العلوم جلد ! ۳۷۷ مدارج تقوی ایک تنگ رستہ جس کے ارد گرد کانٹے دار جھاڑیاں ہوں جن کی شاخیں راستہ کے ارد گرد پھیلی ہوئی ہوں اور اس میں کسی ایسے انسان کو گزرنا پڑے جس نے موٹا کھلا چوغہ پہنا ہوا ہو تو جس طرح یہ آدمی اپنے کپڑے سنبھال کر گزرتا ہے اور چاروں طرف احتیاط کی نگاہ ڈالتا جاتا ہے اسی طرح چاہئے کہ انسان اپنے نفس کو دنیا کی آلائشوں سے جو اسے کئی کئی طریقوں سے اپنی طرف کھینچنا چاہتی ہیں بچاتا جائے ۔ تب وہ متقی ہو سکتا ہے ۔ غرض کہ تقوی کا پہلا درجہ صبر ہے۔ مگر صبر کے صرف یہی معنے نہیں کہ کوئی مرگیا تو خاموش رہیں بلکہ صبر تقوی کے تین درجے کے تین معنے ہیں۔ (۱) مصیبت پڑے تو انسان جزع فزع سے پر ہیز کرے مثلاً کوئی پیارا مر جائے تو کہہ دے مولی کی چیز تھی اس نے لے لی (۲) بدیوں سے پر ہیز کرے نفس کو لگام چڑھائے رکھے۔ ایسے متقی کی مثال یہ ہے کہ کوئی سوار ہو اور اس کا گھوڑا بھوکا ہو اور جس راستہ پر وہ چل رہا ہو اس کے ارد گرد کھیت ہوں اور گھوڑا ان میں منہ ڈالنا چاہے اور وہ سوار اس کی لگام کھینچے رکھے تا ایسا نہ ہو کہ غیر کے کھیت کا نقصان ہو کر اس کے لئے مصیبت کا باعث ہو۔ اسی طرح اس درجہ کے متقی کا کام ہے کہ نفس کے سرکش گھوڑے کو لگام دیئے رکھے۔ اور اسے محارم میں پڑنے سے بچائے رکھے (۳) پھر صبر کے معنے قناعت کے ہیں یعنی جو احسانات اور انعامات اللہ تعالیٰ کے انسان پر ہوں ان سے زیادہ کی حرص نہ کرے۔ ہر قسم کی بدیوں سے رکھنے والے کا نام صابر متقی ہے۔ اور یہ سب سے گھٹیا درجہ ہے اس کی مثال یوں ہے کہ کسی کے ہاں کوئی مہمان جائے تو وہ جو کچھ میزبان دے رہی لیتا ہے اسی طرح ہم اللہ کے مہمان ہیں۔ جن چیزوں کے استعمال کی اس نے اجازت دی ہے رہی استعمال کرنے کے حق دار ہیں۔ یہ درجہ کوئی اتنا بڑا نہیں۔ جب ایک معمولی شریف مہمان اپنے میزبان کے گھر سے خود کھانا نہیں اٹھا لاتا اور نہ اس کی کوئی چیز لے کر چمپت ہوتا ہے تو پھر ایک مؤمن کی شان سے یہ بعید ہے کہ وہ خدا کا مہمان ہو کر بغیر اس کی اجازت کے اس کے حکم کے خلاف اس کی چیزوں میں دست اندازی کرے ۔ اگر میزبان اپنے مہمان کے سامنے کوئی کھانا لا کر رکھے اور مہمان کہے کہ نہیں مجھے پلاؤ لا دو فلاں مٹھائی مجھے لا دو یا میزبان اپنے مہمان کے آگے کوئی چیز رکھ کر کسی مصلحت سے اٹھائے اور مهمان چیخنا شروع کر دے تو وہ مہمان بہت برا سمجھا جائے گا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کوئی نعمت دے کر پھر کسی اپنی حکمت سے واپس لے لے تو جزع و فزع نہیں کرنی چاہئے کیونکہ یہ جزع و فزع محض بیوقوفی ہے۔ پس تقوی کا پہلا درجہ تو ضبط نفس ہے۔ یعنی نفس کو نافرمانی حضرت رب العزت سے