انوارالعلوم (جلد 1) — Page 376
انوار العلوم جلدة ۳۷۶ مدارج تقوی میں تو دیکھتا ہوں کہ جب لوگ دنیا سے غافل ہو جاتے ہیں۔ جب میرے دوستوں اور دشمنوں کو علم تک نہیں ہوتا کہ میں کس حال میں ہوں۔ اس وقت تو مجھے جگاتا ہے۔ اور محبت سے پیار سے فرماتا ہے کہ غم نہ کھا۔ میں تیرے ساتھ ہوں۔ تو پھر اے میرے مولی یہ کس طرح ممکن ہے کہ اس احسان کے ہوتے پھر میں تجھے چھوڑ دوں ۔ ہرگز نہیں ہرگز نہیں "۔ لیکن تقوی ایک دم میں حاصل نہیں ہوتا۔ یہ نہ سمجھو کہ ایک دم میں تم کو اعلیٰ سے اعلیٰ مدارج مل جائیں ۔ بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ ادھر بیعت کی اور ادھر علم روحانی کے دروازے کھل جائیں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کے سب کام وقت پر ہوتے ہیں۔ چنانچہ قرآن شریف میں اس بات کو عجیب طور سے بیان کیا گیا ہے۔ لیکن چونکہ اکثر لوگ آیات قرآنی کے ربط کی طرف توجہ نہیں کرتے ۔ اس لئے ناواقف رہتے ہیں۔ چنانچہ فرمایا ہے ۔ وَلَقَدْ خَلَقْنَا السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَمَا مَسَّنَا مِنْ لَغُوبٍ فَاصْبِرْ عَلَى مَا يَقُولُونَ (ق: ۳۹-۴۰) بِظَاهِرِ خَلَقَ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ اور پھر فَاصْبِرْ عَلَى مَا يَقُولُونَ میں کچھ ربط نہیں معلوم ہوتا ہے۔ مگر غور کرنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ میں نے خدا ہو کر زمین و آسمان کو چھ دن میں پیدا کیا اور اس عرصہ کی وجہ سے میں تھکا نہیں۔ تو تم نے اے نبی خدا کا بندہ ہونے کا دعوی کیا ہے نہ کہ خدا ہونے کا۔ پس تم کیوں گھبراتے ہو ۔ خدا تعالیٰ کے سارے کام صبر کے ساتھ ہوتے ہیں۔ نو ماہ میں نطفہ سے بچہ بنتا ہے۔ پھر بچہ سے جوان اور جو ان سے بوڑھا ہوتا ہے۔ اب تمہارے ساتھ جو وعدے ہیں۔ وہ بھی ضرور پورے ہوں گے تم تسبیح میں لگے رہو یعنی خدا تعالیٰ کی قدوسیت اور اپنی احتیاج کا اقرار اور وعظ کرتے رہو کامیاب ہو جاؤ گے ۔ اجی سوچنے کی بات ہے کہ جب خدا تعالیٰ جو تمام نقصوں اور عیبوں سے پاک ہے۔ جب وہ اپنے کام سبج سبج کرتا ہے تو تم جو پاک نہیں تمہیں کیا جلدی ہے ۔ اکثر لوگوں کو میں دیکھتا ہوں کہ اسی جلد بازی کی وجہ سے بدظن ہو جاتے ہیں کہ آتے ہی کہہ دیا۔ ہم نے بیعت تو کرلی۔ مگر ہمیں رسول کی زیارت کیوں نہیں ہوئی۔ ہم کو اولیاء اللہ کے مدارج کیوں نہیں مل گئے ۔ ہمیں تجارت میں کیوں گھاٹا ہوا۔ یہ سب فاسد خیالات ہیں۔ خدا تعالیٰ جب رسول کریم ال کی خاطر اپنے قوانین نہیں توڑتا۔ تو تم کہاں کے تمھیں مارخاں ہو کہ تم جو کہو وہ فورا ہو جائے۔ غرض ہر بات صبر کے ساتھ ہوتی ہے۔ اور صبر کا پہلا درجہ تقوی ہے۔ ایک مفسر نے تقوی کی تعریف کی ہے جو مجھے بہت پسند ہے۔ مگر مفسر سے میری مراد کشاف ، خازن کبیر جلالین کے مفسر نہیں۔ بلکہ وہ جو قرآن پڑھایا کرتے تھے ۔ وہ لکھتا ہے کہ تقویٰ کی یہ مثال ہے کہ ة