انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 342 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 342

انوار العلوم جلد 1 ۳۴۲ پہاڑی وعظ گئے ۔ شام کے وقت گھر کو واپس آتے ہوئے راستہ میں ایک طویل القامت کثیر اللحیہ پادری صاحب سڑک پر جاتے ہوئے ملے ۔ مجھے خیال آیا کہ یہ پادری صاحب نہ معلوم کہاں سے اور کن کن امیدوں کو ساتھ لئے ہوئے اس دور دراز گوشہ میں پڑے ہوئے پہاڑ پر تشریف لائے ہیں اس لئے مناسب ہے کہ ان سے مل کر ان کی کوششوں کی داد دی جائے ۔ اس لئے میں نے سید عبد الحی صاحب عرب مولوی فاضل کو جو اس وقت میرے ہمراہ تھے کہا کہ وہ پادری صاحب سے بڑھ کر دریافت کریں کہ ہم ان کی کوٹھی پر ان سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔ کیا وہ اسے ناپسند تو نہ فرمائیں گے ۔ پادری صاحب نے اس بات پر بہت خوشی کا اظہار کیا اور ہمیں مسیحیت کا شکار سمجھ کر بڑی خوشی سے ملاقات کی اجازت دی۔ اور بتا دیا کہ آپ کی کو بھی بائیں جانب پوسٹ آفس کے نیچے ہے اور یہ کہ ہم جس وقت چاہیں ان سے مل سکتے ہیں ۔ دوسرے تیسرے روز پادری صاحب ہم کو ڈلہوزی کے بازار میں کتابوں کا ایک بنڈل ہاتھ میں لئے ہوئے نظر آئے جو قریباً تمام کی تمام اسلام کے خلاف تھیں اور اسی غرض سے لکھی گئی تھیں کہ نادان اور جاہل مسلمانوں کو پھلا کر دائرہ اسلام سے خارج کر کے مسیح کی بھیڑوں میں شامل کیا جائے ا پادری صاحب نے عند الملاقات دور سالے ہمیں بھی دیئے ۔ جن میں اسلام اور اس کے بانی پر مختلف پیرایوں میں حملے کئے گئے تھے ۔ انہیں پڑھ کر میری طبیعت میں اور بھی جوش آیا کہ پادری صاحب سے مل کر ضرور چند باتوں کا تصفیہ کرنا چاہئے ۔ اس اتفاقی ملاقات کے دوسرے یا تیسرے دن فرصت نکال کر میں اور دو اور دوست پادری صاحب کی ملاقات کے لئے گئے ۔ نصف گھنٹہ کی تلاش کے بعد پادری صاحب کی کوٹھی کا پتہ لگا۔ جو ایک ایسی پر فضا اور خوبصورت مقام پر بنی ہوئی تھی کہ اس کو دیکھ کر بے اختیار مسیح کا وہ قول یاد آتا تھا کہ دولت مند اس وقت تک خدا کی بادشاہت میں داخل نہیں ہو سکتا جب تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں سے نہ گزر جائے ڈلہوزی پر بہت ہی عمدہ کوٹھیاں ہیں اور اعلیٰ سے اعلیٰ مقامات پر بنی ہوئی ہیں لیکن ایسی خوبصورت اور دلکش جگہ کسی کو بھی میسر نہیں آئی اور صرف مشن ہی کی کو ٹھی ہے کہ جس کو ایسی دل یاسیری میں واقع ہونے کا فخر حاصل ہے۔ چونکہ پہلے روز عرب صاحب ہی پادری صاحب کو ملے تھے اس لئے انہی کو آگے کیا گیا کہ اجازت حاصل کریں پادری صاحب برآمدے میں ہی کھڑے تھے دیکھ کر بڑے تپاک سے ملے اور اندر لے گئے اور ملاقات کے کمرے میں ہم تینوں کو بٹھا کر ایک دو منٹ کے لئے باہر تشریف لے گئے۔ واپس آنے پر پادری صاحب نے 77