انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 329 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 329

انوار العلوم جلد 1 ۳۲۹ مسلمان رہی ہے جو سب ماموروں کو مانے کرتے تو پھر تمہارا مجھ سے قطع تعلق ہے اگر عاجلہ کو دیکھا جائے تو پہلی بات میں فائدہ ہے لیکن اگر يوم ثقیل کا خیال کیا جائے تو سوائے دو سری بات پر عمل کرنے کے کوئی چارہ نہیں ہم ان لوگوں سے صلح کرتے ہوئے ان آیات قرآنی کو کہاں چھپائیں۔ الَّذِينَ يَتَّخِذُونَ الْكَفِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ اَ مِنِينَ اَيَبْتَغُوْنَ عِنْدَهُمُ الْعِزَّةَ فَإِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا (النساء : ٣٠) يَأَيُّهَا الَّذِينَ امَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْكَفِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ أَتُرِيدُونَ أَنْ تَجْعَلُوا لِلَّهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَانًا مبينا (النساء : ۱۴۵) ! إِنَّ الَّذِينَ يَكْفُرُونَ بِاللهِ وَ رُسُلِهِ وَ يُرِيدُونَ ان يُفَرِّقُوا قُوا بَيْنَ اللَّهِ وَرُسُلِهِ وَيَقُولُونَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَكْفُرُ بِبَعْضٍ وَيُرِيدُونَ أَنْ يَتَّخِذُوا بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلًا أُولَئِكَ هُمُ الْكُفِرُونَ حَقًّا وَأَعْتَدْنَا لِلْكَفِرِينَ عَذَابًا مُّهِينَا (النساء : ۱۵۲٬۱۵۱) اور خصوصیت سے آخری آیت میں تو ہم خاص طور سے اس گروہ کا ذکر پاتے ہیں جو مدعی أَنْ ہیں کہ ہم مرزا صاحب کو مسلمان متقی اور راست باز انسان مانتے ہیں لیکن نبی نہیں مانتے اور جو تم کہتے ہیں کہ نجات ایمان باللہ پر ہے نہ ایمان بالرسل پر اور جن کا خیال ہے کہ رسول اللہ کے انکار کی وجہ سے عذاب ہو بھی لیکن مرزا صاحب کے نہ ماننے کا کوئی ہرج نہیں لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ لوگ جھوٹے ہیں اور پکے کا فر ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حضور عذاب کے مستحق ہیں (اور حضرت صاحب بھی فرماتے ہیں کہ مَنْ فَرَّقَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْمُصْطَفَى فَمَا عَرَ فَنِي وَ مَا رَأَى) اور پھر فرماتا ہے کہ مَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِایسته (الانعام : ۲۲) پس باو جودان صریح نصوص کے ہم کیونکر انکار کر دیں اور کہہ دیں کہ تمام رسولوں کا ماننا ضروری نہیں اور یہ کہ مسیح موعود کاماننامدار نجات میں شامل نہیں اگر ہم ایسا کہیں تو ہم بھی اس گروہ میں شامل ہو جائیں گے جن کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے أُولَئِكَ هُمُ الْكَفِرُونَ حَقًّا وَاعْتَدْنَا لِلْكَفِرِينَ عَذَابًا مُّهِينًا - (النساء : ۱۵۲) اور : اور جن کی نسبت فرماتا ہے او كذب ہے او كَذَّبَ بِأَ يُتِهِ فَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَالِكَ الْكَذِبِ وَالْبُهْتَانِ وَ بِفَضْلِهِ مِنْ هَمَزَاتِ الشَّيْطَنِ ) اور اگر ہم ایسا کریں تو گویا عبد الحکیم مرتد کی پیشگوئی کو پورا کر دیں اور شیطان کے مؤید ہو جائیں کیونکہ اس کی مخالفت بھی اس بات پر ہوئی تھی اور وہ جماعت سے اس لئے خارج کیا گیا تھا کہ اس کا دعوی تھا کہ سوائے ان چند مکفرین کے جنہوں نے مخالفت میں زور مارا ہے باقی سب ناجی ہونے چاہئیں اور کفر کا فتوی ان پر نہیں دیتا چاہئے پس ہمارا بھی ایسے ہی عقائد رکھنا گویا عبدالحکیم کی پیروی کرنا اور حضرت مسیح موعود کا انکار کرنا ہے اور اس کی شیطانی پیشگوئی کو پورا کرنا ہے کہ عنقریب مرزائی مرزا صاحب پر ایمان کو غیر