انوارالعلوم (جلد 1) — Page 328
انوار العلوم بلد | ۳۲۸ مسلمان وہی ہے جو سب ماموروں کو مانے ہو گا پس تم ایسا ہی کیا کرو ۔ کیا تم چاہتے ہو کہ خدا کا الزام تمہارے سر پر ہو اور تمہارے عمل حبط ہو جائیں اور تمہیں کچھ خبر نہ ہو۔ جو شخص مجھے دل سے قبول کرتا ہے وہ دل سے اطاعت بھی کرتا ہے اور ہر ایک حال میں مجھے حکم ٹھراتا ہے اور ہر ایک تنازع کا مجھ سے فیصلہ چاہتا ہے مگر جو شخص مجھے دل سے قبول نہیں کرتا اس میں تم نخوت اور خود پسندی اور خود اختیاری پاؤ گے پس جانو کہ وہ مجھ سے نہیں ہے کیونکہ میری باتوں کو جو خدا سے ملی ہیں عزت سے نہیں دیکھتا اس لئے آسمان پر اس کی عزت نہیں " اب اس عبارت پر غور کرنے سے اول تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص غیر احمدی کے پیچھے نماز پڑھتا ہے یا غیر احمدیوں سے تعلق رکھتا ہے وہ ایسے فعل کا مرتکب ہوتا ہے جو قطعی حرام ہے دوسرے یہ کہ ہمارے لئے لازمی ہے کہ ہم غیر احمدیوں سے قطعی طور سے الگ رہیں۔ تیسرے یہ کہ جو ایسا نہیں کرتا اس پر خدا کا الزام ہے۔ چوتھے یہ کہ ایسے شخص کے اعمال حبط ہو جائیں گے۔ پانچویں یہ کہ جو حضرت صاحب کا دل سے معتقد ہے وہ آپ کے اس فیصلہ اور دیگر فیصلوں کو مانتا ہے۔ چھٹے یہ کہ جو نہیں مانتا اس کے دل میں خود اختیاری کا مرض ہے ۔ ساتویں یہ کہ حضرت صاحب ان الفاظ میں کہ وہ مجھ سے نہیں اس سے قطع تعلق کرتے ہیں۔ آٹھویں یہ کہ ایسا کرنے والے کی عزت آسمان پر بھی نہیں کی جائے گی اب باوجود ان فتووں کے ہم کیا کریں اور کس طرح ان لوگوں کے ساتھ شامل ہو جائیں جو ہلاکت کے گڑھے کی طرف ہم کو بلاتے ہیں۔ قرآنی شہاد تھیں اب ایک طرف و خدا کا کام ہم کواپنی طرف بلاتا ہے اور دوسری طرف چند شہادتیں کے ہم کو میں لوگ جن کے ایمانوں کا ہم کو کوئی علم نہیں بلکہ وہ صریح طور سے ایک مأمور کے مکفر ہیں ہم کو اپنی طرف کھینچتے ہیں پس بہتر ہے کہ ہم خدا کی آواز کو قبول کریں اور جس طرح پہلی دفعہ ہم نے انسانوں پر خدا کے احکام کو مقدم کیا اب بھی رہی نمونے دکھا ئیں حضرت صاحب خدا سے خبر پا کر فرماتے ہیں کہ مجھے نہ قبول کرنے والوں کو راست باز جاننے والا ان کے پیچھے نماز پڑھنے والا اور ان سے بکلی قطع تعلق نہ کرنے والا شیطان کے پنجہ میں ہے اور آپ پر ایمان نہیں رکھتا اس کے اعمال حبط ہو جائیں گے اور آسمان پر اس کی عزت نہ ہوگی پس ہمارے لئے کیسا خطرناک ابتلاء ہے ایک طرف تو ظاہری چین اور امن نظر آ رہا ہے۔ دشمنوں کی نظروں میں ایک عزت ہوتی ہے اور شاید گورنمنٹ کی نظروں میں بوجہ سرگروہ سے تعلق ہو جانے کے زیادہ وقعت رجہ سرگروہ کے زیادہ و پانے کی امید ہے اور دوسری طرف خدا کے مأمور کا فتویٰ ہے کہ اگر تم ان سے بکلی قطع تعلق نہیں