انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 326 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 326

انوار العلوم جلد 1 ۳۲۶ مسلمان رہی ہے جو سب ماموروں کو مانے راست باز ہونے کو سمجھ لیا تو پھر وہ بیعت نہیں کرتا تو اس میں یا تو نفاق کا شائبہ ہے یا کفر کا اور حضرت صاحب نے یہ شرط ساتھ قرار دی ہے کہ پھر ایسا شخص منافق بھی نہ ہو پس جو شخص ان شرائط پر عمل کرے گا اس کے لئے تو بیعت ضروری ہو جائے گی اور اگر بیعت نہ کرے گا تو منافق ہو گا پیس جو شخص ایسا اشتہار دے بھی دے جس میں مخالف مولویوں پر کفر کا فتوی دے اور پھر بھی بیعت نہ کرے تو ایسا شخص ضرور منافق ہے پس حضرت صاحب نے تو ایک محال بات پیش کر کے مخالفین پر ایک حجت قائم کی ہے نہ یہ کہ ان کے لئے راستہ کھولا ہے اس عبارت کو پیش کر کے ہم سے صلح چاہنے والا بعینہ اس شخص کی طرح ہے جو قرآن شریف کی آیت قُلْ إِنْ كَانَ لِلرَّحْمَنِ وَلَدٌ فَانَا اَوَّلُ الْعَبدِينَ (الزخرف : (۸۲) کو پیش کر کے ہم سے یہ چاہے کہ ہم یسوع کی عبادت کریں اور اسے خدا کا بیٹا مان لیں۔ یہاں تو یہ اشارہ کیا گیا ہے کہ نہ تو تم خدا کا بیٹا ثابت کر سکو گے اور نہ میں قبول کروں گا اسی طرح مذکورہ بالا عبارت میں حضرت صاحب نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی ہمارے مخالفین کا نام لے لے کر قریبا دو سو مکفر مولویوں پر کفر کافتوئی اشتہار کے ذریعہ شائع کرائے اور پھر اس میں نفاق بھی نہ ہو تو ہم ایسے کو مؤمن مان لیں گے اور یہ بات نا ممکن ہے کہ کوئی شخص ایسا کرے اور پھر باوجود بیعت نہ کرنے کے منافق بھی نہ ہو پس یہ تو ایک تعلیق محال بالمحال تھی اسے سند کے طور سے پیش کرنا تو ایک بڑی جہالت ہے۔ اور اس لمبی تقریر کی بھی ہم کو کچھ ضرورت نہیں کیونکہ خدا کے مامور کی آواز کو نہ پہچاننا بھی تو کوئی شخص نہیں پیش کیا گیا جس نے ان شرائط پر عمل کیا ہو پس اس کے ذریعہ صلح چاہنا اول درجہ کی نادانی ہے جس قدر لوگ متفرق طور سے احمدیوں کے پاس آکر یا جماعتوں میں اس قسم کا اقرار کرتے ہیں وہ تو ان لوگوں کی طرح ہیں جن کی نسبت اللہ تعالی فرماتا ہے وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا وَإِذَا خَلَوْا إِلَى شَيْطِيْنِهِمْ قَالُوا إِنَّا مَعَكُمْ إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِءُونَ (البقره: ۱۵) وہ اگر ہم سے صلح چاہتے ہیں تو اپنی دنیاوی حیثیت بڑھانے کے لئے نہ کہ ان کے دلوں میں دین کی تڑپ ہے اگر واقعی ان کو خدا تعالیٰ سے کچھ محبت ہوتی اور دین کی تڑپ ہوتی اور تقویٰ کا ایک ذرہ بھی ان کے دلوں میں باقی ہوتا تو وہ کیوں کوشش سے اس شخص کے دعوی کو نہ سنتے جس نے تئیس برس پکار پکار کر سنایا کہ خدا نے مجھ سے کلام کیا اور مجھے دنیا کی اصلاح کے لئے بھیجا ہے اور میں اس کی طرف سے مأمور مقرر کیا گیا ہوں۔ اس نے لیکچروں کے ذریعہ اشتہاروں اور رسالوں کے ذریعے کتابوں کے ذریعہ اپنی آمد کا اعلان کیا