انوارالعلوم (جلد 1) — Page 325
انوار العلوم جلد 1 ۳۲۵ مسلمان وہی ہے جو سب ماموروں کو مانے یہی نہیں بلکہ اس کے ایمان میں نفاق کا کوئی شائبہ نہ ہو پس جب ایسا کوئی شخص نہیں اور کسی نے ان شرائط کو پورا نہیں کیا تو ہم کس طرح ان کو الگ سمجھ لیں اور گھر بیٹھے زبانی باتوں کے دھوکے میں آجا ئیں۔ جب ہمارے امام نے صریح الفاظ میں لکھ دیا ہے کہ جو ہمیں کافر نہیں کہتے ہم انہیں بھی اس وقت تک ان کے ساتھ سمجھیں گے جب تک کہ وہ ان سے الگ ہونے کا اعلان بذریعہ اشتہار نہ کریں اور ساتھ ہی نام بنام یہ نہ لکھیں کہ ہم ان مکفرین کو بموجب حدیث صحیحہ کافر سمجھتے ہیں پس ہم کیوں کر اس شخص کی اطاعت سے نکل جائیں جس کو ہم نے سچا یقین کیا اور جس کے معجزات ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھے اور جس کا خدا سے تعلق ہم نے مدتوں مشاہدہ کیا ہم اپنے اس سردار اور حاکم کی بات کو کیونکر رد کر دیں جس کے ہاتھ پر ہم نے اپنے آپ کو بیچ دیا اور ا آپ کو بیچ دیا اور اپنے خیالات اور اپنی خواہشات اس کے لئے قربان کر دیں ایسی جرات تو وہ شخص کر سکتا ہے کہ جس کے دل میں ایمان نہ ہو ۔ جو نور یقین سے کو راہو اور جس کو خدا نے معرفت کی آنکھیں نہ دی ہوں۔ اور یہ قطعاً خیال نہ کرو کہ اس قول کا پہلے قول سے کچھ اختلاف ہے اور اس میں حضرت صاحب نے پہلے کی نسبت نرمی کر دی ہے کیونکہ انبیاء اپنے الہاموں کے سب سے زیادہ قائل اور مؤمن ہوتے ہیں دیکھو حضرت صاحب اپنی کتاب اربعین میں تحریر فرماتے ہیں کہ " مجھے اپنی وحی پر ایسا ہی ایمان ہے جیسا کہ توریت اور انجیل اور قرآن پر " پس یہ خیال سخت گندہ ہو گا اگر ہم یہ کہیں کہ حضرت صاحب نے اس پہلی الہامی بات کو رد کر دیا بلکہ ہمارا فرض ہے کہ ہم ان میں تطبیق کریں اور بہر حال ہم کو اس عبارت کو پہلی عبارت کے ماتحت کرنا پڑے گا کیونکہ وہ الہامی ہے اور اس کے معنی بھی ہم نے نہیں خود حضرت صاحب نے کئے ہیں چنانچہ اگر کوئی شخص غور سے دیکھے تو اس جگہ حضرت صاحب نے تعلیق محال بالمحال سے کام لیا ہے کیونکہ جو شخص حضرت صاحب کے منکرین کو نام بنام کافر قرار دے گا اور با وجو د حضرت صاحب کے ان دعاوی کے آپ کو سچا قرار دے گا اور آپ کے الہامات اور معجزات پر یقین لائے گا اور پھر آپ کی بیعت نہ کرے گا۔ تو ایسا شخص دو حال سے خالی نہیں ۔ یا تو وہ منافق ہو گا کہ لوگوں کے ڈر سے سچ کو قبول نہیں کرتا اور یا حکم الہی کا صریح منکر ہو گا کیونکہ حضرت صاحب نے بیعت الہام کے ذریعہ سے شروع کی ہے اور قرآن شریف میں انبیاء کے منکرین کو کافر کہا گیا ہے۔ جس پر حق کھل گیا اور بیعت نہیں کر تاوہ منافق ہے ہیں ایسا شخص جس پر حق مکمل