انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 289 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 289

انوار العلوم جلد | ۲۸۹ نجات سکتے اور کیا نئی ضرورت پیدا ہوئی تھی کہ یسوع کو صلیب پر لٹکانا پڑا۔ پہلے نبی بڑے زور سے توحید باری کے قائل تھے پس وہ کفارہ کے قائل کس طرح ہو سکتے تھے اور حضرت یوسف سے جب ان کے بھائیوں نے کہا کہ بن یامین کے بدلہ میں ان کو قید کرے تو اس نے انکار کیا اور کہا کہ یہ ظلم ہے اگر کفارہ درست تھا تو انہوں نے کیوں نہ بدلہ منظور کر لیا۔ ششم ۔ اس وقت کی مسیحی سلطنتیں کیوں کفارہ پر عمل کر کے ایک کے بدلے میں دوسرے آدمی کو پھانسی نہیں دے دیتیں ۔ کیونکہ اگر وہ اس کو جائز رکھیں تو ہزاروں آدمی روپیہ کے زور سے اپنے قائم مقام دے دیں اور خود کو سزا سے بچائیں۔ ہفتم ۔ کیا وجہ ہے کہ مسیحی گورنمنٹیں مسیحیوں کو سزا دیتی ہیں کیونکہ جب ان کے گناہ معاف ہو چکے ہیں تو اب وہ جو چاہیں کریں ان پر کوئی الزام نہیں۔ اور اگر باوجو د کفارہ پر ایمان لانے کے انسان کے لئے گناہوں سے بچنا لازمی ہے تو کفارہ کا فائدہ کیا ہوا پھر تو کفارہ بالکل بے سود ہے اور دوسرے کفارہ کے مسئلہ کی ضرورت تو تب پڑی جبکہ مان لیا گیا کہ انسان گناہوں سے نہیں بچ سکتا۔ اس لئے اس کی نجات کے لئے یسوع صلیب پر لٹکایا گیا۔ پس اگر کفارہ کے ساتھ نیک اعمال کی شرط لگی ہوئی ہے تو نجات محال ہے کیونکہ مسیحی عقائد کے رو سے انسان گناہوں سے بچ ہی نہیں سکتا۔ پس جب انسان نے ضرور گناہ کرنے ہیں اور کفارہ نے اس وقت تک کوئی فائدہ نہیں پہنچانا جب تک اعمال نیک نہ ہوں تو نجات نا ممکن ہو گئی اور اگر کہا جائے کہ کفارہ پر ایمان لانے سے گناہ معاف ہو جاتے ہیں تو پھر مسیحی مجرم کو سزا دینا نا جائز ہوا۔ بلکہ اگر وہ گندہ سے گندہ فعل بھی کرے تو اسے تسلی دینی چاہئے کہ تو نے بہت عمدہ کیا تیرے سب گناہ یسوع نے اٹھائے ہیں تو اب ناجی ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ جب انسان کفارہ پر ایمان لاتا ہے تو وہ گناہوں سے پاک ہو جاتا ہے تو یہ بالکل جھوٹ ہے کیونکہ مسیحی ممالک کے حالات اظہر من الشمس ہیں۔ اور یوروپین تہذیب کے واقف خوب جانتے ہیں۔ دوسرے بفرض محال اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ مسیحیوں نے کبھی گناہ نہیں کیا تو یہ اعتراض پڑتا ہے کہ جب مسیحی گناہ کرتے ہی نہیں تو پھر یہ کیوں کہا جاتا ہے کہ مسیح نے ہمارے گناہ اٹھا لئے جب گناہ ہی نہ ہوئے تو پھر اٹھایا گیا۔ غرض کوئی پہلو ہی لے لو کفارہ کا مسئلہ غلط ہی ثابت ہوتا ہے اور عقل سے بالا نہیں بلکہ اس کے خلاف ہے۔ پس جو طریق کہ مسیحی مذہب نے گناہوں سے نجات حاصل کرنے کا بتایا ہے۔ بالکل باطل اور بیہودہ ہے اور کوئی ذی عقل اس طریق سے اپنے گناہوں کی معافی کا امیدوار نہیں ہو سکتا۔* تشحید الاذہان مارچ تامئی / جولائی تا ستمبر ۱۹۱۰ء )