انوارالعلوم (جلد 1) — Page 288
انوار العلوم جلد | ۲۸۸ نجات جاتا ہے کہ وہ خدا سے دور ہے یا لعنتی ہے پس یسوع کی نسبت کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ کسی وقت اسے خدا سے نفرت ہو گئی تھی اور وہ اس سے دور ہو گیا تھا حالانکہ جھوٹے نبیوں کی نسبت پیشگوئی تھی کہ وہ تو کاٹھ پر لٹکائے جائیں گے مگر بچوں کے ساتھ ایسا سلوک کبھی نہ ہو گا۔ پس اگر یسوع کا ٹھ پر مر گیا تھا تو کفارہ تو کفارہ خود یسوع کی نبوت تک ثابت نہیں ہوتی۔ دوم یہ کہ کفارہ کو مان کر بھی خدائے تعالٰی کی عدالت ثابت نہیں رہتی۔ کیونکہ کیسے ظلم کی بات ہے کہ اگر ایک کمزور مخلوق یعنی انسان ما انسان گناہ کرے تو اسے ابد الآباد کے لئے جہنم میں ڈالا جاتا ہے اور اپنے بیٹے کو باوجود اس کے کہ اس کے سر پر کروڑوں گناہ ہیں تین دن کے لئے دوزخ میں رکھا جاتا ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ وہ خدا تھا اور غیر محدود تھا اس لئے اسے تین دن کی سزادی گئی تو اس پر یہ الزام آتا ہے کہ پھر خدا محدود ہو جاتا ہے ۔ کیونکہ غیر محدود کے ساتھ محدود کو کوئی نسبت نہیں ہو سکتی اور جب دو چیزوں میں نسبت ہوگی ۔ تو وہ ضرور محدود ہوں گی۔ کبھی کسی نے حساب میں یہ سوال نہ دیکھا ہو گا کہ اگر کسی محدود چیز کو اس قدر کام کے بدلہ میں اتنا بدلہ دیا جائے۔ تو غیر محدود ہستی کو اپنے ہی کام کے بدلہ میں کتنا دیا جائے گا۔ پس اس صورت میں یسوع کو تین دن کیا ایک سیکنڈ کی بھی سزا نہیں مل سکتی تھی اور اگر یہ کہا جائے کہ گو نسبت تو کوئی نہیں بیٹھی مگر علی الحساب سزا دیدی گئی : تھی تو یہ ظلم ہے پس یسوع کو تین دن تک سزا کا ملنا ممکن ہی نہیں اگر ممکن ہو بھی تو ظلم ہے ۔ سوم یہ کہ یسوع کو جو تین دن تک دوزخ کی سزا ملی تو یہ خدا بیٹے کو سزا ملی تھی یا یسوع انسان کو اگر بیٹے کو سزا ملی تھی تو خدا میں تقسیم لازم آتی ہے۔ یعنی اگر تین خدا ہیں تو ان دنوں میں دورہ گئے تھے اور اگر ایک ہیں تو اس کا حصہ رہ گیا تھا۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ وہ سزا یسوع انسان کو ملی تھی تو پھر وہی اعتراض پڑتا ہے کہ اس صورت میں اسے صرف تین دن کی سزا دینا مسیحیوں کے اعتقاد کے مطابق ظلم تھا۔ اور دوسرے ایک دھو کہ تھا کیونکہ جب واقعہ میں خدا بیٹا خدا باپ کے پاس موجود تھا۔ تو پھر اس نے ایک خاک کا پتلا بنا کر اس کا نام اپنا بیٹا رکھ د ارکھ دیا اور اسے صلیب دے کر اپنے عدل کو قائم رکھنے کی کوشش کی جو صریح دھو کہ ہے ۔ چهارم کفارہ کا عقیدہ خلاف عقل ہے کیونکہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ زید کے پیٹ میں درد ہو اور عمر اپنی پہلی میں چھری مارے۔ اور زید اچھا ہو جائے ۔ پنجم اگر کفارہ سچا ہے تو پہلے نبیوں کا کیا حشر ہو گا کہ جو توحید کے قائل تھے اور انہیں یسوع کے کفارہ پر ایمان لانے کا موقعہ نہیں ملا اگر وہ کفارہ پر ایمان لائے بغیر نجات پاسکتے تھے تو ہم کیوں نہیں پا