انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 281 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 281

انوار العلوم جلدا ۲۸۱ نجات کے مخالفین کے گھر اجڑ گئے ان کی بستیاں ویران ہو گئیں جس نے آپ پر تلوار چلائی قتل کیا گیا ان کی بیویاں بیوہ ہو گئیں ان کے بچے یتیم ہوئے ۔ ان پر رونے والا بھی کوئی نہ ملا۔ چیلیں اور کتے آپ کے اعداء کا گوشت کھا گئے ۔ وہ دنیا و آخرت میں ذلیل کئے گئے اور کوئی نہ تھا جو ان کو بچاتا وہ برباد کر دیئے گئے اور کوئی نہ نکلا جو ان کی مدد کو آتا۔ جنہوں نے آپ کو گمنام کرنا چاہا تھا وہ خود گمنام ہو گئے اور آج تک ان کے نام و نشان کا پتہ نہیں آج کوئی ہے جو ابو جہل کی نسل ہونا اپنے لئے پسند کرے۔ کیا کوئی ہے جو عقبہ و شیبہ کے نام اپنے آباء میں لینا فخر سمجھے ۔ وہ صنادید عرب جو اپنے ملک کے باپ کہلاتے تھے۔ ان کی امار تیں آپ کے سامنے گر گئیں وہ آپ کی اطاعت میں سر کے بل گرائے گئے ۔ ان کے ماتھوں پر غلامی کا داغ لگایا گیا وہ بہادروں کا بہادر اور بادشاہوں کا بادشاہ دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ مکہ فتح کرنے گیا اور وہ بت جو خدائے واحد کے مقابلہ میں کھڑے کئے جاتے تھے اس کے بندہ کے آگے سرنگوں کئے گئے۔ اور اس کے زبردست ہاتھوں ان کے ٹکڑے اڑا دیئے گئے ۔ زمین سے لے کر آسمان تک اس کا نور چمکا اور خود خدا نے اس کے صدق پر شہادت دی اور اس کار حینم کریم دل اپنے مخالفین کے لئے پیجا اور لا تُشْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ کی دلکش آواز نے نہ صرف آپ کے مخالفین کے جسموں کو ہی بچالیا بلکہ ان کی روحوں کو بھی ابدی دوزخ کے پھندے سے نجات دلادی - الکامل فی التاريخ - ابن الاثير ماه ۱ صفحه ۲۴۳- بیروت ۱۹۶۵ء) لیکن یسوع با وجود ان آسانیوں کے جو میں اوپر لکھ آیا ہوں کہ نہ اس کی قوم ایسی خطرناک تھی اور نہ اس کو اس سے ایسی دشمنی ہی تھی روز بروز کمزور ہی ہوتا گیا۔ اور آخر نوبت یہاں تک پہنچی کہ وہ شخص اپنے حواریوں کو بارہ تختوں کا وعدہ دیتا تھا اور ابن اللہ ہونے کا دعوی کرتا تھا۔ اور اپنے آپ کو شہزادہ کہتا تھا جو یہودیوں کی ہلاکت کی پیشگوئیاں کر رہا تھا جو رومن سلطنت کی بھی کچھ حقیقت نہ سمجھتا تھا جسے اپنی ترقیوں کی بڑی بڑی امیدیں تھیں۔ اور جو آسمانی بادشاہت کے وعدہ دے کر اپنے حواریوں کے حوصلہ کو بڑھا رہا تھا۔ یہودیوں کے قبضہ میں پڑا اور کچھ ایسا پھنسا کہ آخر نہایت کرب و اندوہ اٹھا کر سولی پر لٹکایا گیا۔ اور اس وقت اس کے دشمنوں نے اس کے منہ پر تھوکا اور کانٹوں کا تاج پہنایا اور پانی کی جگہ سرکہ پلایا ۔ اور اس بے بسی و بے کسی کی حالت میں وہ چیخا اور ایلی ایلی لما سبقتنی کی درد ناک اور مایوسی کی مجسم آواز اس کے منہ سے نکلی اور بقول مسیحیوں کے ہمیشہ کے لئے اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔ اور ساتھ ہی ان تمام دعووں پر جو اس نے اپنی ذات کی نسبت اور حواریوں کے بارے میں کئے تھے پانی پھر گیا۔ اب بتاؤ کہ ا اب بتاؤ کہ کیا وہ شخص جو باوجود سخت سے