انوارالعلوم (جلد 1) — Page 280
انوار العلوم جلدا ۲۸۰ سے پتہ لگ سکتا ہے کہ مسیح کی قوم کو ان سے کچھ زیادہ اختلاف نہ تھا مگر رسول اللہ" کی قوم میں اور آپ میں ایک اختلافات کا سمند ر حائل تھا جو ان کو آپ کی مخالفت کے لئے ہر دم ابھارتا تھا۔ پھر جو شخص مسیح کی پیروی کرتا تھا اسے سوائے گالیوں کے اور کچھ نقصان نہ پہنچتا تھا یا زیادہ ہوا تو کہیں بار پیٹ پڑ جاتی تھی۔ لیکن رسول اللہ الل کے ساتھ تعلق پیدا کرنا نہ صرف عزیز و اقرباء سے قطع تعلق کر لینا تھا بلکہ اپنی جان سے بھی نا امید ہونا تھا۔ چنانچہ حواریوں کا زیادہ سے زیادہ پیٹنا ثابت ہے اور صحابہ کا نہ صرف مار کھانا بلکہ قتل ہونا پایہ ثبوت کو پہنچتا ہے اور پھر قتل بھی معمولی نہیں۔ ایسے واقعات بھی ہیں کہ مرد کی ایک ٹانگ ایک اونٹ سے باندھ دی اور دوسری دو سرے سے اور پھر دونوں کو مختلف سمتوں میں چلا دیا اور پھر مسیح کے ساتھ کی عورتوں کی نسبت تو گالی گلوچ بھی ثابت نہیں اور رسول اللہ کو ماننے والی عورتوں میں سے بعض کا قتل اور ایسا قتل کہ ان کے فروج میں نیزہ مار کر مار دیا گیا ثابت ہے۔ پھر مسیح شہروں اور بستیوں میں کھلم کھلا وعظ دیتا پھرتا تھا اور رسول کریم اللہ کے مخالفین آپ کو اس قدر آزادی نہیں دیتے تھے بلکہ آپ کا اکے دکے آدمیوں میں تبلیغ کرنا بھی وہ لوگ نا پسند کرتے تھے ۔ اور جہاں آپ کو دیکھتے زدو کوب کرنے سے نہ ملتے تھے پھر اگر مسیح کہیں بھاگ جاتا تو وہ لوگ ایسے ناراض نہ تھے کہ اس کا پیچھا کرتے ۔ لیکن رسول اللہ اللہ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ میں تشریف لے گئے تو آپ کا پیچھا لوگوں نے وہاں تک کیا۔ مسیح کے پکڑنے کا خیال اس کے مخالفین کو ایسا نہ تھا۔ جتنا کہ آپ کے مخالفین کو آپ" کے گرفتار اور قتل کرنے کا تھا۔ کیونکہ مسیح کے سر کا اس کے دشمنوں نے تمہیں درہم انعام مقرر کیا لیکن رسول اللہ کے لئے ایک سو اونٹ کا انعام اعلان کیا گیا۔ پھر مسیح کی جنگ یعنی زبانی بات چیت صرف یہودیوں سے تھی اور رسول اللہ اللہ نے اپنی سچائی سے سب دنیا کو اپنے مقابل پر لاکھڑا کیا تھا۔ اور مسیح اپنی حکومت کی پناہ میں تھا اور رسول اللہ ﷺ کے مقابل پر نہ صرف آپ کی اپنی قوم تھی بلکہ اس وقت کی دونوں زبر دست یعنی قیصر روما اور کسری کے ایران کی حکومتیں بھی آپ کے استیصال کا ارادہ رکھتی تھیں اور علاوہ ان کے عرب کے مسیحی اور یہودی بھی آپ کے ساتھ بیر رکھتے تھے۔ مگر باوجود ان تمام مشکلات کے جو رسول اللہ اللہ کے راستہ میں تھیں اور ان خطرات کے جو آپ کی ہلاکت کے لئے اگر آپ (نعوذ باللہ ) جھوٹے ہوتے کافی تھے ۔ آپ بڑھے اور پھولے اور پچھلے اور دن رات آپ کا قدم آگے بڑھا اور جو کوئی آپ کے مقابلہ میں آیا ہلاک ہوا۔ اور جو کوئی آپ پر گر ا ہلاک ہوا اور جس پر آپ گرے اسے ہلاک کر دیا ۔ آپ نجات