انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 277 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 277

انوار العلوم جلد 1 ۲۷۷ نجات سوال حل ہو جائیں تو پھر کفارہ کے مسئلہ پر انسان گفتگو کر سکتا ہے اور تب صحیح موقعہ ہے کہ اس خلاف عقل مسئلہ پر تو بہ کی جائے اور دیکھا جائے کہ آیا یہ واقعہ ہوا ہے یا ہو سکتا ہے۔ پس میں مختصرا انہی سوالوں پر روشنی ڈالتا ہوں اور اول اس بات کو دیکھتا ہوں کہ آیا ایک سے زیادہ خدا ہو سکتے ہیں اور چونکہ مخاطب میرے اس وقت مسیحی صاحبان ہیں اس لئے سب سے پہلے بائبل کا حوالہ دیتا ہوں کیونکہ حضرت موسی اور ان کے بعد کے نبیوں کی شریعت کی سچائی کے خود یسوع بھی مقر ہیں ۔ استثناء ۳۲ آیت ۳۹ میں لکھا ہے ”اب دیکھو کہ ہاں میں ہی وہ ہوں اور کوئی معبود میرے ساتھ نہیں میں ہی مارتا ہوں اور میں ہی جلاتا ہوں میں ہی زخمی کرتا ہوں اور میں ہی چنگا کرتا ہوں اور ایسا کوئی نہیں جو میرے ہاتھ سے چھڑا دے اور پھر استثناء ۴ آیت ۳۵ میں ہے یہ سب تجھ ہی کو دکھایا گیا کہ تو جانے کہ خداوند ہی خدا ہے۔ اور اس کے سوا کوئی نہیں " پھر یسعیاہ باب ۴۵ آیت ۵ میں ہے " میں ہی خداوند ہوں اور کوئی نہیں۔ میرے سوا کوئی خدا نہیں" پھر یسعیاہ باب ۴۵ آیت ۲۱۱۸ ۲۲ میں ہے "کیا میں خداوند نے ہی یہ نہیں کہا کہ میرے سوا کوئی خدا نہیں ہے ۔ صادق القول اور نجات دینے والا خدا میرے سوا کوئی نہیں میری طرف رجوع لاؤ تاکہ تم سوا کوئی نجات پاؤ ۔ اے زمین کے کناروں کے سارے رہنے والو کہ میں خدا ہوں اور میرے سوا نہیں "۔ یہ آیات تو وہ ہیں کہ جو پرانے عہد نامہ سے نقل کی گئی ہیں۔ اور جن سے تثلیث کا مردود ہونا بین و ظاہر ہے اب نئے عہد نامہ یعنی انجیل سے میں ایک آیت نقل کرتا ہوں کہ جس سے منکشف ہو جائے گا کہ خود مسیح بھی تثلیث کا منکر اور توحید کا قائل تھا۔ چنانچہ مرقس باب ۱۲ آیت ۳۰٬۲۹ میں مر مرقوم ہے کہ کسی نے مسیح سے پوچھا کہ سب حکموں میں سے اول کون سا ہے تو ” یسوع نے اس کے جواب میں کہا کہ سب حکموں میں سے اول یہ ہے کہ اے اسرائیل سن وہ خداوند جو ہمارا خدا ہے ایک ہی خداوند ہے اور تو خداوند کو جو تیرا خدا ہے اپنے سارے دل سے اور اپنی ساری جان سے اور اپنی ساری عقل سے اور اپنے سارے زور سے پیار کر اول حکم یہ ہے “۔ پس باوجود اس حکم کے جو خود مسیح دیتا۔ جو خود مسیح دیتا ہے کہ سب سے پہلے تیرا فرض یہ ہے کہ خد یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ کی توحید کا قائل ہو یہ کہنا کہ خدا تین ہیں کس قدر بعید از عقل ہے۔ ہے اور یہ ثبوت تو وہ ہے جو خود مسیحیوں کی کتب مقدسہ میں سے میرے دعوی کی تائید میں ملتا۔ علاوہ اس کے خود مسیح بھی توحید کی ہی تعلیم دیتا ہے ۔ لیکن قطع نظر اس ثبوت کے عقل بھی تثلیث کی مؤید نہیں کیونکہ جیسا کہ میں پہلے لکھ آیا ہوں اس عالم مادی کو دیکھ کر بے شک انسان کو خیال آتا