انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 276 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 276

انوار العلوم جلد : ۲۷۶ نجات تثلیث کا ثبوت ہے۔ یعنی وہ یہ نہیں ثابت کر سکتے کہ خدا تین ہیں اور کفارہ کے مسئلہ کے لئے سب سے پہلے ان کو یہی بات ثابت کرنی ضروری ہے کیونکہ جب تک تین خدا ثابت نہ ہوں تو ایک خدا کا ان میں سے مصلوب ہونا باطل ٹھہرتا ہے اور گو محض مادی اشیاء اور عقلی دلائل سے خدا تعالیٰ کا وجود بھی ثابت کرنا ایک حد تک مشکل ہے لیکن اسے مان کر بھی یہ سب کا ئنات عالم اگر کسی پیدا کرنے والے کو چاہتی ہے اور چونکہ کوئی مصنوع بغیر صانع کے نہیں ہوتا اس لئے کسی صانع عالم کے وجود کا اقرار کرنا پڑتا ہے لیکن اس سے صرف اتنا ثابت ہوتا ہے کہ کوئی ہستی ایسی چاہئے کہ جو اس عالم کی خالق ہو مگر یہ ثابت نہیں ہونا کہ وہ ایک سے زیادہ ہستیاں ہیں ۔ اگر بفرض محال مانا جائے کہ وہ ایک سے زیادہ ہیں تو کیوں دو نہ مانی جائیں یا چار تصور نہ کی جائیں تین کی کیا خصوصیت ہے ۔ پس مسیحی صاحبان کے لئے اول تو تثلیث کا ثابت کرنا ہی نا ممکن ہے۔ کیونکہ جو کچھ وہ ثبوت دے سکتے ہیں وہ ایک خدا کو ثابت کرتا ہے زیادہ کو نہیں اور اگر ایک سے زیادہ خدا تصور کئے جاسکیں تو پھر ہر ایک کو حق ہے کہ وہ دو خدا مانے یا چار مانے یا پانچ مانے اس میں کوئی ہرج نہیں۔ پس جبکہ تثلیث کا ثابت کرنا ہی مشکل ہے۔ نہیں بلکہ اس کے لئے کوئی دلیل بھی پیش نہیں کی جاسکتی۔ تو پھر مسیح کا کفارہ آپ ہی باطل ہو گیا اور اگر وہ مان بھی لی جائے تو اب یہ وقت ہے کہ ایک کو باپ اور ایک کو بیٹا کیوں مانا جائے ۔ یہ کس دلیل سے ثابت ہے کہ ایک باپ ہونا چاہئے۔ اور ایک بیٹا اور ایک روح القدس اور کیوں نہ کہا جائے کہ تینوں باپ ہی ہیں ۔ یا تینوں بیٹے ہی ہیں یا تینوں روح القدس ہی ہیں اور یہ کیوں خیال کیا جائے کہ مسیح بیٹا تھا کیوں نہ اس کو باپ تصور کیا جائے۔ پس تثلیث کے مسئلہ کے بعد یہ بہت سے سوال ہیں جو حل کئے جانے ضروری ہیں اور پھر یہ سوال بھی حل کرنے کے قابل ہے کہ اگر تین ہی خدا ہیں اور ہے بھی ایک بیٹا اور ایک باپ اور ایک روح القدس تو پھر مسیح ہی کو تیسرا خدا کیوں مانا جائے اور لوگ بھی ہیں جو کہ مسیح سے بہت زیادہ کامیاب ہوئے ہیں ان کو کیوں نہ خدا خیال کیا جائے ۔ اور اگر مصیبتوں اور تکلیفوں کے اٹھانے پر ہی خدا کا دارومدار ہے تو ایسے لوگ بھی کم نہیں جو اپنے ملک کو ترقی دینے کے لئے بڑے بڑے عذاب برداشت کر کے مر گئے ان کو اس مرتبہ سے کیوں محروم رکھا جائے۔ اور اس کے علاوہ یہ دیکھنا بھی ضروری ہو گا کہ آیا خود یسوع بھی اس کے لئے تیار تھا کہ نہیں اور اسے اس کی مرضی سے پھانسی پر لٹکایا گیا تھا یا زبردستی اور اگر یہ سوال بھی حل ہو جائے تو پھر یہ دیکھنا ہو گا کہ آیا یسوع پھر صلیب پر مرا بھی کہ نہیں۔ کیونکہ اگر وہ پھانسی پر نہیں مرا تو سب کیا کرایا خاک میں مل جائے گا اور جب اتنے