انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 246 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 246

انوار العلوم جلد 1 ۲۲۶ نجات کے بھیس میں اسے دیکھا۔ اور کسی نے اس پاک ہستی کو ورا ، شیر ، مگر مچھ کچھ کی شکل میں اعتقاد کیا۔ کسی نے یسوع کے رنگ میں رنگین پایا۔ تو کسی نے بدھ کی صورت میں جلوہ گر ( نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ كُلِّ ذلك ، یہودیوں نے اگر موئی کی معرفت اس کا دیدار چاہا تو زرتشتیوں نے زرتشت کی وساطت سے اس کی ملاقات کی خواہش کی مگر سچی بات یہی ہے کہ وہ دراء الورٹی ہستی اس بات کی محتاج نہیں کچھ مگر مچھ یا کسی انسان کی صورت اختیار کرے اور یہ بات اس کی صفات کے بھی ہر کو رسول الله خلاف ہے۔ اس کا دیدار اس کی صفات کی معرفت سے ہوتا ہے چنانچہ اس بچے مسئلہ کورس ا ا کی معرفت خدا تعالیٰ نے ہم تک پہنچایا اور فرمایا کہ ليْسَ كَمِثْلِهِ شَيْئ (الشوری: ۱۲) کہ اس کی مانند کوئی چیز نہیں کہ جس کے بھیس میں وہ آسکے اور دوسرے مقام پر فرمایا کہ لا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَ هُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ الـ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ (الانعام : ۱۰۴) یعنی یہ مادی آنکھیں اس کی کنہ تک نہیں پہنچ سکتیں ہاں وہ ان آنکھوں کی کنہ کو خوب پہنچتا ہے اور وہ بڑا لطیف اور خبیر ہے۔ پس ان سب بد عقائد کی جڑ صفات الہیہ سے بے خبری ہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ بعض نادان محبت کی وجہ سے بعض خدا انما لوگوں کو خدا ہی سمجھ بیٹھتے ہیں اور بعض مخلوقات الہیہ کو اس کا شریک قرار دیتے ہیں۔ اسی کی طرف قرآن شریف میں خدا تعالی اشارہ فرماتا ہے کہ مَا قَدَرُوا اللهَ حَقَّ قَدْرِهِ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزُ الج: ۷۵) یعنی لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات سے پوری آگاہی حاصل نہیں کی اور نہ اس کی بڑائی کا پورا اندازہ کیا تحقیق اللہ قوی اور غالب ہے ۔ کیا معنی کہ لوگ جو غفلت میں پڑ گئے ہیں اور ایسے معبودوں کی طرف جھک گئے ہیں جو خود ضعیف ہیں اور کوئی طاقت اور قوت نہیں رکھتے اور نقصوں سے پاک نہیں ہیں بلکہ طرح طرح کے نقائص سے آلودہ ہیں ایسے لوگوں نے صفات الہیہ کا پوری طرح سے مطالعہ ہی نہیں کیا۔ اور بلا سوچے سمجھے من گھڑت صفات خداتعالیٰ کی طرف منسوب کر دی ہیں۔ کہ جن کی وجہ سے اصل معبود سے دور جا پڑے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ مسئلہ نجات میں بھی مختلف اقوام نے دھو کہ کھایا ہے ۔ اسلام کی تعلیم سے ہم کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ پاک ذات جس کی محبت میں لاکھوں نہیں کروڑوں روحیں بے چین رہی ہیں اور ہیں اور رہیں گی تمام نقائص سے پاک ہے اور کسی قسم کی اس میں کمی نہیں ہے بلکہ تمام نیک صفات کی وہ جامع ہے اور بالکل بے عیب ہے اور کوئی اعلیٰ صفت نہیں کہ جس کا ہونا اس ذات کے لئے ضروری ہو اور وہ اس میں نہ پائی جاتی ہو اور نہ کوئی ایسی صفت ہے کہ جس کے ہونے سے اس میں نقص لازم آتا ہو ۔۔۔ اور وہ اس میں پائی جاتی ہو۔